خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 829 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 829

خطبات طاہر جلد ۸ 829 خطبه جمعه ۲۲ دسمبر ۱۹۸۹ء جاؤں۔اب تک ایسا نہیں ہو سکا تو اس کی صرف یہ وجہ ہے کہ آپس میں ان کے اختلافات ہیں جو طے نہیں ہوتے اور ہر ایک ان میں سے چاہتا تو یہی ہے کہ شریعت کے نام پر میں نافذ ہو جاؤں لیکن ساتھ ہی یہ پسند نہیں کرتا کہ شریعت کے نام پر میرا کوئی رقیب اس ملک پر نافذ ہو جائے۔نافذ کی بجائے کہنا چاہئے ” مسلط ہو جائے۔پس یہی جھگڑا چل رہا ہے۔جس طرح غالب نے کہا تھا رات کے وقت مے پیئے ساتھ رقیب کو لئے آئے وہ یاں خدا کرے پر نہ کرے خدا کہ یوں رات کا وقت ہو، مے پیئے ہوئے میرا دوست آ رہا ہو۔دل تو یہی چاہتا ہے کہ اس طرح ہو لیکن رقیب کو ساتھ لے کر آئے یہ نہیں مجھے پسند۔یہ نہ ہو۔اب یہ جب شریعت لاتے ہیں تو رقیب بھی ساتھ آ جاتے ہیں اور اپنے بدمست رقیبوں کو یہ دیکھ نہیں سکتے۔اب تک تو یہی روک رہی ہے لیکن اب بالعموم سنی علماء نے معلوم ہوتا ہے کہ اس بات پر اتفاق کر لیا ہے کہ سنی شریعت جس کو وہ شریعت سمجھتے ہیں اس کو ملک میں ضرور نا فذ کر دیا جائے۔پھر بعد میں ہم آپس میں لڑتے رہیں گے کہ کون سنی مولوی اس شریعت کی رُو سے مطلق العنان حاکم بنتا ہے یا کون نہیں بنتا۔یہ سازش یہاں تک پہنچ گئی ہے لیکن جو حصہ نہایت ہی خطرناک ہے وہ یہ ہے کہ اس سازش کا ایک منفی اثر ساتھ کے وسیع ملک ہندوستان پر بھی پڑا اور جس طرح ایک مثبت پول یعنی Positive Pole بجلی کا بنتا ہے اس کے مقابل پر لازماً ایک نیکٹیو پول بھی بن جایا کرتا ہے۔ایک مرکز اگر مثبت بنتا ہے تو خالی مثبت مرکز کوئی چیز نہیں۔لازماً اس کے اثر میں اس کے عکس ، اس کے پر تو کے طور پر ایک منفی نقطہ ضرور ظاہر ہوتا ہے جس کو ہم نیکٹیو پول کہتے ہیں سائنسی اصطلاح میں۔تو ان باتوں کا اثر غیر مسلم دنیا پر لازم پڑنا تھا اور سب سے زیادہ اثر طبعا ہندوستان پر پڑنا تھا جو کہ بڑی مدت سے پاکستان کا رقیب چلا آ رہا ہے۔چنانچہ ان کی ان حرکتوں کی وجہ سے جہاں انہوں نے نفاذ شریعت کے نام پر دراصل اپنی حکومت مسلط کرنے کی کوششیں کی ہیں، ہندو انتہا پسندوں کو بھی ایک نکتہ ہاتھ آ گیا۔انہوں نے سوچا کہ اگر شریعت کے نفاذ کے ذریعے ، ہم لوگ جن کو سیاست میں پوچھتا کوئی نہیں اور دوٹوں کے وقت کوئی گھاس بھی نہیں ڈالتا۔پاکستان میں مذہبی متشدد اور انتہا پسند سیاست میں اوپر آ سکتے ہیں تو ہم کیوں نہ آکر دیکھیں۔چنانچہ ہندوؤں کا وہ انتہا پسند ٹولہ جس کی پہلے سے کبھی