خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 827 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 827

خطبات طاہر جلد ۸ 827 خطبه جمعه ۲۲ دسمبر ۱۹۸۹ء وقت تک تمہارا کوئی قانون مجھے سزا نہیں دے سکتا۔یہ ہے آخری اور بنیادی بات جس کے بعداب جیسے کہا جاتا ہے کہ بال (Ball) ان کی کورٹ میں ، دوسرے کی کورٹ میں چلا گیا۔اب ان کا فرض ہے کہ ہمیں ثابت کر کے دکھا ئیں کہ کس طرح اس احمدی پر مسلمان کی تعریف صادق آجاتی ہے جو صرف لا اله الا اللہ پڑھے اور محمد رسول الله کہے اور یہ کہنے کے جرم میں یہ حکم اس پر لگ جاتا ہے کہ گویا اس نے اپنے آپ کو مسلمان بتایا، مسلمان ظاہر کیا۔پس جب تک احمدی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ چمٹا ہوا ہے اور آپ کی صداقت کا اقرار کرتا چلا جاتا ہے ان کے بنائے ہوئے قوانین کی زد سے باہر رہتا ہے اور جب وہ انکار کر دیتا ہے تو ان میں شامل ہو جاتا ہے۔سزا پھر بھی اس کو نہیں مل سکتی۔دیکھیں ! انسانی بنائے ہوئے قوانین کتنے بے معنی اور ناکارہ اور بے حقیقت ہوا کرتے ہیں، سازشوں کا نتیجہ ہوتے ہیں، محض دشمنیوں اور بغضوں کے اظہار کا ذریعہ بنتے ہیں اور کوئی نہ کوئی نفسانی ایسے محرکات ہوتے ہیں جن کے نتیجے میں اکثر انسانی قوانین بنتے ہیں۔اس لئے وہ کھو کھلے ہوتے ہیں، بودے ہوتے ہیں، بے معنی ہوتے ہیں۔قانون وہی ہے جو خدا بنائے۔اب انسانی قوانین کی حقیقت کسی نے اگر دیکھنی ہو یا یہ دیکھنا ہو کہ کیسے بے حقیقت قوانین ہوا کرتے ہیں تو پاکستان میں جو کچھ گزرا ہے وہ اس کی بہترین مثال پیش کرتا ہے۔ساری قوم نے مل کر ایک بنیادی دستور بنایا جسے۱۹۷۳ء کا دستور کہا جاتا ہے، متفقہ طور پر۔اس دستور میں ایک قانون یہ تھا کہ جوشخص بھی اس دستور پر حملہ کرے گا اور کسی طرح بھی اس دستور کی خلاف ورزی کرے گا وہ پھانسی کا سزاوار ہے اور سب سے بڑی بغاوت جو ملک کے خلاف کی جاسکتی ہے اس کا وہ سزا وار ٹھہرے گا۔یہ تھاوہ دستور اور اس دستور کی حفاظت کے لئے یہ شق رکھی گئی تھی۔ایک شخص اُٹھتا ہے وہ سارے دستور پر تبر رکھ دیتا ہے اور جس دستور کی رُو سے وہ گردن زدنی ہے اسی دستور کو منسوخ کر دیتا ہے اور قوم بالکل بے اختیار ہو جاتی ہے اور ساری عدلیہ ملک کی ساری عدلیہ تو نہیں مگر انصاف پرست جو منصفین تھے وہ تو احتجاج میں الگ ہو گئے تھے لیکن بعد میں جو عد لیہ پیدا ہوئی، آج تک رہی وہ ساری عدلیہ بالکل بے بس اور نہتی ہوگئی اور ایسے ظالم شخص کے متعلق کوئی بھی فیصلہ نہیں کر سکی جس نے وہ قانون منسوخ کیا جس نے اس کی جان لینی تھی اور جس نے اپنے قتل کے خلاف قانون منسوخ کر دیا۔اس کے مقابل پر بالکل