خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 817 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 817

خطبات طاہر جلد ۸ 817 خطبه جمعه ۲۲ / دسمبر ۱۹۸۹ء قرآن کریم پر ایمان کا ذکر ہے مگر دیگر کتب سماوی پر ایمان کا کوئی ذکر نہیں ، ملائکہ پر ایمان کا کوئی ذکر نہیں ، اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت پر ایمان کا تو ذکر ہے مگر کل انبیاء کی رسالت پر ایمان کا کوئی ذکر نہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت تک کے علماء کے نزدیک اسلام کی کوئی واضح تعریف تھی ہی نہیں اور جس شخص کے منہ میں جو بات آئی اس نے اس موقعہ پر کر دی۔دوسرے نمبر پر وہ مولانا احمد علی صاحب جمیعت علمائے اسلام کے نمائندے کا جواب درج کرتے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر کوئی قرآن پر ایمان لاتا ہے، رسول اللہ کی حدیث پر ایمان لاتا ہے تو اسے مسلمان کہلانے کا حق ہے۔قطع نظر اس کے کہ وہ کسی اور چیز پر ایمان لاتا ہے یا نہیں لاتا۔اس لئے باقی ارکانِ اسلام جو تھے ان کا صفایا انہوں نے کر دیا اور منجملہ یہ کہنا کافی سمجھا اگر صفایا نہیں کیا کہ چونکہ قرآن کریم پر ایمان لے آیا، ساری باتیں اس میں شامل ہو گئیں اس لحاظ سے ایک جامع تعریف تو بنتی ہے لیکن قرآن کی تمام تفاصیل پر ایمان لانے کی جب بحث اُٹھ جائے تو ایک اتنا لمبا قضیہ شروع ہو جاتا ہے کہ اس کو مسلمان کی تعریف کہنا ہی غلط ہے کیونکہ جسٹس منیر نے جو ایسے سوالات کئے ان سوالات سے پہلے انہوں نے تعریف کر کے ان کو بتایا کہ تعریف اس کو کہتے ہیں جو کم سے کم الفاظ میں کسی چیز کی تصویر کافی صورت میں بیان کر دے تو کم سے کم الفاظ تو ہیں لیکن اس کے اندر یہ بات مضمر ہے کہ قرآن کریم کی تفصیلی بحثیں اُٹھائی جائیں گی اور قرآن کریم کے کسی ادنی سے حکم پر بھی اگر کوئی عمل نہیں کرتا یا حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طرف منسوب ہونے والی کسی حدیث پر عمل نہیں کرتا تو دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے گا۔تیسرا سوال مولوی مودودی صاحب، ابوالاعلیٰ کہلانے والے مودودی صاحب سے کیا گیا اور ان کا جواب اس میں کوئی شک نہیں کہ مدلل تھا۔صحیح سند رکھتا تھا اور کافی وشافی سمجھا جانا چاہئے تھا کیونکہ انہوں نے پانچ ارکانِ اسلام ہی بیان کئے۔اس سے زائد کوئی بات نہیں کی۔انہوں نے فرمایا جو شخص تو حید پر ایمان لاتا ہو، انبیاء پر منجملہ ایمان لاتا ہو، تمام الہی کتابوں پر ایمان لاتا ہو، ملائکہ پر ایمان لاتا ہو ، یوم الآخر پر ایمان لاتا ہو ، وہ مسلمان ہے۔چونکہ اس میں ختم نبوت کا کوئی ذکر نہیں ملتا اور کوئی ایسی شق وہ زائد نہیں کر سکے کیونکہ قرآن و سنت اس کی اجازت نہیں دیتے تھے جس کی رُو سے وہ احمدیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دے