خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 816 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 816

خطبات طاہر جلد ۸ 816 خطبه جمعه ۲۲ دسمبر ۱۹۸۹ء اس کمیشن نے جو عدلیہ کے بہت ہی ممتاز اور غیر معمولی قابلیت رکھنے والے دو منصفین پر مشتمل تھا یعنی اور دوم جسٹس محمد منیر اور جسٹس کیانی تو انہوں نے پہلی بار اس سوال کو ایک اور نقطہ نگاہ سے کھنگالا اور علماء کے سامنے معین طور پر یہ مسئلہ رکھا کہ جب تم کسی کو غیر مسلم قرار دیتے ہو تو تمہارے لئے لازم ہے کہ اس سے پہلے مسلمان کی تعریف کرو اور جب تک تم کسی چیز کی تعریف نہیں کرتے اور یہ ثابت نہیں کرتے کہ وہ تعریف اس شخص پر صادق نہیں آ رہی جس کو تم اس تعریف سے باہر قرار دے رہے ہو ، اس وقت تک تمہارا قانونی حق نہیں بنتا کہ کسی کے متعلق اپنی رائے کو ہی قانون بنالو۔چنانچہ معین طور پر۱۹۵۳ء کے فسادات کے متعلق عدالتی تحقیقات کے دوران جو ۱۹۵۴ء میں دراصل کی گئی اس زمانے کے چوٹی کے نو علماء سے جسٹس منیر اور جسٹس کیانی نے اسلام کی تعریف سے متعلق معین سوالات کئے۔یہ بہت ہی دلچسپ باب اور Report of the court of inquiry consituted under Punjab act 11 of 1954 to enquire into the Punjab Disturbances of 1953۔یہ ہے ٹائیٹل اس کتاب کا جو ۱۹۵۴ء میں گورنمنٹ پرنٹنگ پنجاب پریس سے شائع ہوئی۔اس کے صفحات ۲۱۵ سے ۲۱۸ پر یہ دلچسپ بحث موجود ہے۔اس کا خلاصہ میں نے تیار کیا ہے تا کہ آپ کے علم میں مسلمان کی تعریف کا وہ پس منظر لے کر آؤں جو اس زمانے تک بعض علماء کے نزدیک سمجھی جا رہی تھی۔سب سے پہلے وہ ذکر کرتے ہیں کہ مولانا ابوالحسنات محمد احمد قادری سے جب یہ سوال کیا گیا کہ مسلمان کی کیا تعریف ہے؟ تو انہوں نے ۶ نکاتی جواب دیا۔خلاصہ اس کا یہ ہے۔انہوں نے کہا توحید پر ایمان لاتا ہو ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت پر ایمان لاتا ہو، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی تسلیم کرتا ہو، قرآن کریم پر ایمان کہ یہ خدا کا کلام ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا ، رسول اللہ کے احکامات کو واجب التسلیم یقین کرتا ہو اور قیامت پر ایمان لاتا ہو۔اس تعریف کی کوئی بنیاد انہوں نے بیان نہیں کی۔قرآن اور سنت کی رو سے کس بات پر انہوں نے بناء رکھی ہے جس کی رُو سے یہ تعریف بنائی اور اس تعریف میں اور اُس تعریف میں جو بالعموم مسلمانوں میں رائج چلی آتی تھی یعنی تفصیلی تعریف۔اس میں بعض بنیادی فرق ہیں مثلاً