خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 818
خطبات طاہر جلد ۸ 818 خطبه جمعه ۲۲ دسمبر ۱۹۸۹ء سکتے۔تو اس لئے تعجب سے عدالت نے ان سے یہ معین سوال کیا کہ کیا ان باتوں پر ایمان لانا مسلمان کہلانے کے لئے کافی ہے اور کسی اور چیز کی ضرورت نہیں اور وہ اسلامی سلطنت میں مسلمان کہلائے گا ؟ تو جواب تھا: ہاں۔پھر سوال ہوا کہ اگر کوئی ان پانچوں باتوں پر ایمان لا تا ہو تو کیا کسی کو حق ہے کہ اس کے ایمان کے وجود پر اعتراض کر سکے؟ تو جواب تھا کہ جو پانچ ضروریات میں نے بیان کی ہیں یہ بنیادی ہیں۔اگر کوئی ان میں تبدیلی کرے تو وہ دائرہ اسلام سے باہر نکل جائے گا۔گویا اس سے پہلے علماء کے جواب میں جہاں جہاں ان پانچ باتوں سے انحراف کیا گیا ہے اور تعریف میں تبدیلی کی گئی ہے یا بعد میں آنے والے علماء نے ان پانچ باتوں کے علاوہ کچھ بیان کیں یا ان میں کوئی تبدیلی کی تو وہ بھی مولانا صاحب کی اس تعریف سے دائرہ اسلام سے خارج ہو گئے لیکن جیسا کہ آخر پر ظاہر ہو گا، احمدی خارج نہیں ہوئے اور باقی سب علماء چونکہ اس تعریف سے انحراف کرتے رہے ہیں وہ خارج ہو جاتے ہیں۔یہ کہنا شاید درست نہ ہو کہ احمدی خارج نہیں ہوتے ، باقی ہو جاتے ہیں کیونکہ جماعت احمدیہ نے جو بیان دیا ہے وہ کلمہ توحید اور کلمہ رسالت کا اقرار کرنا ہے اور اس کی تفصیل یہ بیان نہیں کی جو یہ پانچ نکات ہیں۔اس لئے مولانا مودودی کی تعریف کی رُو سے سوائے ان کی ذات کے باقی سارے جماعت اسلامی والے بھی جو اس کے سوا کوئی تعریف کرتے ہوں دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتے ہیں۔غازی سراج الدین صاحب نے بس اسی پر اکتفا کی کہ جو شخص لا اله الا الله مـحـمـد رسول اللہ کا اقرار کرتا ہے اور رسول اللہ کی پیروی کرتا ہے تو وہ مسلمان ہے۔عدالت نے علماء کے سامنے یہ سوال بار بار اٹھایا کہ پیروی کرنے کی شرط اگر ضروری ہے تو عملاً جو شخص احکام اسلام کے بعض حصوں پر عمل پیرا نہیں ہے اس کے متعلق کیا فتویٰ ہے؟ تو باقی سب علماء نے جن سے بھی یہ سوال کیا گیا یہ فتویٰ دیا کہ وہ پھر بھی مسلمان رہتا ہے لیکن غازی سراج الدین کی تعریف سے یہ بات نکلتی ہے کہ کوئی شخص جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی پیروی نہیں کرتا کسی معاملے میں وہ دائرہ اسلام سے باہر نکل جاتا ہے۔مفتی محمد ادریس صاحب جامعہ اشرفیہ نے ایک لمبی تعریف کی اور ساتھ یہ بھی اقرار کیا کہ میرے لئے ان تمام امور کا ذکر تقریباً ناممکن ہے جو مسلمان بنانے کے لئے ضروری ہیں کیونکہ انہوں