خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 781 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 781

خطبات طاہر جلد ۸ 781 خطبه جمعه یکم دسمبر ۱۹۸۹ء زبان نہیں چاہئے جس زبان کے لئے ان کو تیار کیا جا رہا ہے بلکہ اُردو زبان کی بھی شدید ضرورت ہوگی تا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا لٹریچر خود اردو میں پڑھ سکیں۔ عربی زبان کی بنیادی حیثیت ہے کیونکہ قرآن کریم اور احادیث نبویہ عربی میں ہیں ۔ عربی زبان بھی سکھانے کی ضرورت پڑے گی۔ پس تین زبانیں تو کم سے کم ہیں یعنی اس کے علاوہ کوئی زبان سیکھے تو چاہے جتنی چاہے سیکھے لیکن تین زبانوں سے کم تو کوئی سوال ہی نہیں اس لئے یہ بھی بتانا ہو گا کہ جہاں تم پولش سیکھ رہے ہو یا ہنگیرین سیکھ رہے ہو، چیکوسلواکین سیکھ رہے ہو یا پولش سیکھ رہے ہو یا رومانین سیکھ رہے ہو یا البانین سیکھ رہے ہو۔ ساتھ ساتھ لازما تمہیں اُردو اور عربی بھی سیکھنی ہو گی اور اس کے بھی جہاں تک میر اعلم ہے ان ممالک میں انتظامات موجود ہیں ۔ اگر نہیں ہیں تو تحریک جدید کو تو میں آغاز ہی سے یہ نصیحت کر رہا ہوں کہ اُردو اور عربی سکھانے کے لئے ویڈیوکیسٹس تیار کریں اور آسان طریق پر ایسی ویڈیو تیار کریں جن کا جماعت کے لٹریچر سے تعلق ہو اور اس میں اسلامی اصطلاحیں استعمال ہوتی ہوں کیونکہ اگر ہم بازار سے زبانیں سیکھنے کی بنی بنائی ویڈیوز لیں یا آڈیو کیسٹس لیں تو جو زبان اس ؟ تو جو زبان اس میں سکھائی جاتی ہے وہ اکثر ہمارے کام کی نہیں ہے۔ اس میں وہ تو یہ بتائیں گے کہ Pork ( سور کا گوشت ۔ ناقل ) کس طرح مانگا جائے گا اور شراب کس طرح مانگی جائے گی اور ہوٹل میں کس طرح جا کر ٹھہرنا ہے اور ناچ گانے کے گھروں کی تلاش کس طرح کرنی ہے روز مرہ کی اپنی زندگی کے مطابق انہوں نے زبان بنائی ہوئی ہے۔ اس زبان سے ہمارے بچوں کو تبلیغ کرنی کیسے آسکتی ہے؟ اس لئے زبان کا ڈھانچہ تو وہ سیکھ سکتے ہیں لیکن اس زبان کو معنی خیز الفاظ سے بھرنے کا کام لازماً جماعت کو خود کرنا ہوگا اور وہ ایک خاص منصوبے کے مطابق ہوگا۔ کیسٹ تو دیر ہو رہی ہے۔ اب یہ بچے کھیلنے لگ گئے ہیں۔ بعض دفعہ ان کی تصویر میں آتی ہیں تو پتا چلتا ہے کہ جو چار سال پہلے بچہ پیدا ہوا تھا جو وقف زندگی تھا اب وہ باتیں کرتا دوڑتا پھرتا اور ان کے ماں باپ بڑی محبت کے ساتھ ان کی تصویریں بھجواتے اور بعض دفعہ وہ اپنے ہاتھ سے چھوٹے موٹے خط بھی مجھے لکھتے ہیں۔ بعض ایسے بھی خط لکھتے ہیں کہ شروع سے آخر تک صرف لکیریں ڈالی ہوتی ہیں اور بچہ سمجھ رہا ہوتا ہے کہ میں نے خط لکھا ہے ۔ مگر اس خط کا بڑا مزہ آتا ہے کیونکہ ایک واقف زندگی کو شروع سے ہی خلیفہ وقت سے محبت پیدا کرنے کا یہ بھی ایک گر ہے اس کے دل میں محبت ڈالنے کا کہ