خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 782
خطبات طاہر جلد ۸ 782 خطبہ جمعہ یکم دسمبر ۱۹۸۹ء ذاتی تعلق پیدا ہو جائے۔بہر حال یہ کام تو ہو رہے ہیں لیکن جلدی اس بات کی ہے کہ ان کو سنبھالنے کے لئے جو ٹھوس تیاری ہونی چاہئے اس میں مجھے ڈر ہے کہ ہم پیچھے رہ رہے ہیں۔اس لئے اس کام کی طرف توجہ ہونی چاہئے اور جب تک تحریک جدید معین طور پر واقفین زندگی کو مطلع نہیں کرتی کہ تم نے یہ کام کرنے ہیں، دو کام تو ان کو پتا ہی ہیں دو نہیں، تین۔اوّل تقویٰ کی بات میں نے کی ہے۔بچپن سے ان کے دل میں تقویٰ پیدا کریں اور خدا کی محبت پیدا کریں اور دو زبانیں جو سیکھنی ہیں عربی اور اُردو وہ تو سب پر قدر مشترک ہیں۔اس میں کوئی تفریق نہیں ، کوئی امتیاز نہیں۔ہر احمدی واقف نوعربی سیکھے گا اور اُردو بھی سیکھے گا۔اس پہلو سے جہاں جہاں انتظامات ہو سکتے ہیں وہاں وہاں وہ انتظامات کریں اور تیاری شروع کر دیں۔اس مضمون پر غور کرتے ہوئے اور جب میں نے یہ سوچا کہ ہم تو خدا تعالیٰ کے ہاتھوں میں بے طاقت اور بے عقل وہ مہرے ہیں جیسے شطرنج کی بازی پہ کھیلے جاتے ہیں تو مجھے اپنی ایک پرانی رویا یاد آ گئی۔جس کا آج کل کے حالات سے تعلق ہے۔مجھے یاد نہیں کہ میں نے پہلے آپ کے سامنے بیاں کی تھی یا نہیں لیکن وہ ہے دلچسپ اور اب جو اس کی تعبیر ظاہر ہوئی ہے وہ زیادہ واضح ہے۔جن دنوں میں ایران کا انقلاب آ رہا تھا ابھی شروع ہوا تھا ۷۸-۱۹۷۷ء کی بات ہے۔افغانستان میں تبدیلیاں پیدا ہوئیں ، ایران میں بھی یہ ان دنوں کی بات ہے۔میں نے رویا میں دیکھا کہ میں ایک جگہ نظارہ کر رہا ہوں لیکن سب کچھ دیکھنے کے باوجود گویا میں اس کا حصہ نہیں ہوں، موجود بھی ہوں۔دیکھ بھی رہا ہوں لیکن بطور نظارے کے مجھے یہ چیز دکھائی جارہی ہے۔ایک بڑے وسیع گول دائرے میں نوجوان کھڑے ہیں اور وہ باری باری عربی میں بہت ہی ترنم کے ساتھ ایک فقرہ کہتے ہیں اور پھر انگریزی میں گانے کے انداز میں اس کا ترجمہ بھی اسی طرح ترنم کے ساتھ پڑھتے ہیں اور باری باری اس طرح منظر دلتا بدلتا ہے۔پہلے عربی پھر انگریزی پھر عربی پھر انگریزی۔اور وہ فقرہ جو اس وقت یوں لگتا ہے جیسے قرآن کریم کی آیت ہے۔لا یعلم الا هو لا يعلم الا ھو۔کوئی نہیں جانتا سوائے اس کے، کوئی نہیں جانتا سوائے اس کے اور یہ جو مضمون ہے یہ اس طرح مجھ پر کھلتا ہے کہ نظارے دکھائے جا رہے ہیں۔میں نے جیسا کہ کہا ہے میں وہاں ہوں بھی اور نہیں بھی۔ایک پہلو سے سامنے یہ نو جوان گا رہے ہیں اور پھر میری نظر پڑتی ہے عراق کی