خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 780 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 780

خطبات طاہر جلد ۸ 780 خطبه جمعه یکم دسمبر ۱۹۸۹ء زبانیں سکھانا بھی بہت ہی مشکل کام ہے اور بڑے بڑے ماہرین کی ضرورت ہے جنہوں نے زندگیاں اس کام کے لئے وقف کر رکھی ہوں اور بڑی بڑی وسیع تحقیقات میں وہی نہیں بلکہ ان کے بہت سے ساتھی بھی ایک لمبا عرصہ تک مصروف رہے ہوں۔ایسی سہولتیں مغرب کے ترقی یافتہ ممالک میں میسر ہیں۔اس پہلو سے تحریک جدید کو چاہئے کہ مشرقی یورپ اور اشترا کی دنیا کے ان ممالک کے لئے جہاں عموماً مغربی زبانیں بولی جاتی ہیں اور پھر چین کے لئے اور دوسرے کوریا، شمالی کوریا اور ویت نام وغیرہ کے لئے جہاں مشرقی زبانیں بولی جاتی ہیں، معین طور پر بچوں کو ابھی سے نشان لگا دیں جس کو انگریزی میں Ear Mark کرنا کہتے ہیں اور اگر فی الحال ان کی نظر میں دس کی ضرورت ہے تو ہیں یا تھیں تیار کریں۔اب تو یہ اعداد و شمار دیکھ کر فیصلہ ہوگا کہ کس ملک کے لئے کتنے بچے تیار کئے جا سکتے ہیں لیکن ابھی سے یہ کام کرنے کی ضرورت ہے مثلاً اگر پولینڈ کے لئے ہم نے کچھ بچے تیار کرنے ہیں تو ایسے ممالک سے جہاں پولش زبان سیکھنے کی سہولت ہے، واقفین بچے لینے چاہئیں۔جرمنی میں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جماعت کافی تعداد میں موجود ہے اور جرمنی کی جماعت چونکہ اللہ کے فضل سے قربانی میں بھی بہت پیش پیش ہے۔وہاں ایک بڑی تعداد ایسے جوڑوں کی ہے جنہوں نے اپنے بچے وقف کئے ہیں اور ابھی بھی کر رہے ہیں تو ایسے بچوں سے جو کسی خاص زبان سیکھنے کی سہولت رکھتے ہوں وہی کام لینے چاہئیں جو ان کے مناسب حال ہیں۔اس پہلو سے اور بھی بہت سی ایسی زبانیں ہیں جن کا جرمنی سے تعلق ہے اور جرمن قوم ان سے پرانے تاریخی روابط رکھتی ہے۔پھر انگلستان میں بھی بہت سی زبانیں سیکھنے کا انتظام ہے۔یہاں بھی کچھ بچے خاص زبانوں کے لئے تیار کئے جاسکتے ہیں، شمالی یورپ میں سیکنڈے نیویا میں بھی بعض خاص زبانیں سیکھنے کا انتظام باقی جگہوں سے زیادہ ہے۔وہاں خصوصیت سے بعض گروہ بعض خاص ملکوں کے لئے تیار کئے جا سکتے ہیں۔غرضیکہ یہ ایک ایسا کام ہے جس کو عمومی نظر سے دیکھ کر فیصلہ نہیں کیا جاسکتا تفصیلی نظر سے سب بچوں پر لڑکوں پر اور لڑکیوں پر نظر ڈالتے ہوئے یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم نے فلاں ملک کے لئے دس یا ہیں یا تمیں واقفین زندگی تیار کرنے ہیں۔ان میں سے اتنی لڑکیاں ہوں گی جو علمی کاموں میں گھر بیٹھے خدمت دین کر سکتی ہوں۔ان کو اس خاص طرز سے تیار کرنا ہوگا۔اتنے لڑکے ہوں گے جن کو ہم نے اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ آگے ان میدانوں میں جھونکنا ہے۔پھر ان کو صرف وہی