خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 744 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 744

خطبات طاہر جلد ۸ کہ دل مطمئن ہوں۔744 خطبہ جمعہ ۷ ارنومبر ۱۹۸۹ء اس سلسلے میں سب سے پہلے تو ضروری ہے کہ مباہلے کے الفاظ دیکھے جائیں وہ کیا تھے۔ان الفاظ کی رو سے جو بات فریقین پر صادر ہونی واجب ہو وہ ضرور ہونی چاہئے اور اگر ان الفاظ کی رو سے کچھ بھی نہیں ہوتا تو یہ نتیجہ نکالنا بھی درست نہیں کہ دونوں فریق جھوٹے۔یہ نتیجہ بھی نکالنا درست نہیں کہ نعوذ باللہ خدا بھی نہیں ہے اور دہریت کو تقویت ملے کیونکہ ایک اور تیسرا نتیجہ بھی تو نکالا جاسکتا ہے کہ تمہارا مباہلہ بے معنی تھا اور خدا کے ہاں مقبول نہیں ہوا اور اس صورت میں ذمہ دار وہ فریق ہوگا جس نے پہلے مباہلے کور د کیا اور اپنا مباہلہ ٹھونسا اور یہ اصرار کیا کہ یہ درست مباہلہ ہے اور پہلا درست مباہلہ نہیں ہے۔ایسی صورت میں ایک منظمند کو یہ تجزیہ کرنا ضروری ہوگا کہ جس مباہلے کو انہوں نے رد کیا تھا کیا وہ بے نتیجہ ثابت ہوایا اس کا نتیجہ نکلا اور جس مباہلے کو انہوں نے درست مباہلہ قرار کر کے جماعت پر ٹھونسا تھاوہ درست ثابت ہوا کہ نہیں۔تو اگر کوئی صاحب فہم ہو اور عقل کے ساتھ حکمت کے ساتھ تجزیہ کرے تو یہی ایک عقلی نتیجہ نکلتا ہے جو میں نے آپ کے سامنے رکھا ہے لیکن اس کا نتیجہ نکلا بھی ہے وہ میں ابھی آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔جہاں تک مباہلے کے الفاظ کا تعلق ہے جماعت احمدیہ کی طرف سے ایک عبارت پڑھی گئی اور اسی طرح منکرین کی طرف سے ایک عبارت پڑھی گئی۔جماعت احمدیہ کی طرف سے عبارت یہ ہے: بسم الله الرحمن الرحيم۔صلى الله۔الحمد لله رب العلمين نصلى على محمد آل محمد یہ عبارت کا آغاز ہے آگے ہے ) حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام مسلمانوں کے لئے امام مہدی اور موعود مسیح ابن مریم ہیں۔وہ حضرت محمد کے تابع غیر تشریعی امتی نبی اور رسول ہیں۔یہ ہمارا دلی اعتقاد ہے۔ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کا اعلان کرتے ہیں۔حضرت احمد القادیانی علیہ السلام کی طرف سے پیش کردہ تمام الہامات اور وحی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہیں ان کے منکر خدا تعالیٰ کی طرف سے اسی سزا کے مستحق ہیں جو دیگر