خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 717 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 717

خطبات طاہر جلد ۸ 717 خطبه جمعه ۳ / نومبر ۱۹۸۹ء کے درجے تک پہنچتے پہنچتے یہ اتنا وسیع نظام ہو چکا ہے کہ اگر آپ کو اس نظام کے ایک معمولی سے حصے کے متعلق بھی میں پوری معلومات حاصل کرنے کے بعد بتانا شروع کروں تو بیسیوں خطبے گزر جائیں گے لیکن وہ ذکر مکمل نہیں ہوگا۔حیرت انگیز نظام ہے اور آخر پر ایک ہی دماغ ہے۔ایک ہی شعور ہے جو یوں معلوم ہوتا ہے کہ سب کا آخری نگران ، اور ہے بھی آخری نگران، لیکن از خود کام ہوتے چلے جارہے ہیں۔سارا ہمارا جو نظام ہے پیدائش کا نظام، سانس لینے کا نظام انہظام کا نظام، بے شمار نظام میں گردوں کا کام کرنا اور کئی قسم کے تیزابوں اور زہروں کو جسم سے نکالنے کا نظام، دفاع کے مختلف نظام۔ان میں سے ہر نظام کا ہر حصہ اتنا پیچیدہ اور اتنا توجہ کا محتاج ہے کہ ناممکن ہے کہ بغیر توجہ کے یہ خود بخود کام کرے لیکن مجھے یہ بات سمجھ آئی کہ یہ توجہ رفتہ رفتہ ایک ایسے نظم و ضبط کی شکل اختیار کر گئی جس کو ہم غیر شعوری دماغ کہتے ہیں اور اس لمبے عرصے کی کمائی کا نتیجہ ہے کہ یہ نظام جاری ہے۔یہ سوچتے ہوئے میرا ذہن اس طرف منتقل ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کی یہ ایک عظیم الشان دلیل ہے۔اگر انسانی زندگی کے تجربہ میں بھی یہ ناممکن ہے کہ لمبے عرصے کی شعوری کوشش کے بغیر کوئی نظام جاری رہ سکے۔تو ساری کائنات کا جو نظام چل رہا ہے یہ غیر شعوری کوشش کے بغیر کیسے ہو گیا۔اس لئے جو خود بخود چل رہا ہے جس طرح ہمارے جسم میں خود بخود چلنے والا نظام بھی ارب ہا ارے سال پہلے شعوری طور پر چلایا جارہا تھاور نہ از خود چلنے کی صلاحیت اس میں پیدا ہی نہیں ہو سکتی تھی۔اس طرح ساری کائنات کا نظام بھی جو از خود چلتا ہوا دکھائی دے رہا ہے بہت ہی لمبے عرصے تک شعوری طور پر چلایا گیا ہے اور اس شعور نے پھر آگے مختلف در جے اختیار کر لئے ہیں اور سلسلہ وار اس کا آخری درجہ خدا سے ملتا ہے اور یہ سلسلہ وار شعوری نظام یا اگر انسانی اصطلاح میں بات کریں تو بعض پہلو سے غیر شعوری بھی کہہ سکتے ہیں اس کو۔یہ جو جاری ہوا ان سلسلوں کا نام فرشتے ہیں اور بے شمار فرشتے ہیں جو سلسلہ وار اس کام کو چلاتے چلے جارہے ہیں اور پھر خدا تک ان کا تعلق ہے اور وہ آخری فرشتہ جو اس میدان میں سب سے بلند مرتبہ رکھتا ہے اور خدا سے تعلق رکھتا ہے اس فرشتہ کا نام ہمیں قرآن کریم میں ملتا ہے یا بعض جگہ ذکر ملتا ہے اور تفصیل سے نام نہیں ملتا لیکن یہ ضرور پتا چلتا ہے قرآن کے مطالعہ سے اور حدیث کے مطالعہ سے