خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 718 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 718

خطبات طاہر جلد ۸ 718 خطبه جمعه ۳ / نومبر ۱۹۸۹ء بھی کہ ایسے فرشتے ہیں جو نظام کی ہر تفصیل کی آخری رپورٹ خدا کے حضور پیش کر رہے ہوتے ہیں۔پس نظام کا بڑا ہونا فی ذاتہ کوئی چیز نہیں ہے، کوئی بوجھ نہیں ہے۔اس نظام کا صحیح ہونا ضروری ہے۔اگر نظام صحیح ہو جائے اور چل پڑے تو ساری کائنات کا خدا بھی عرش پر مسلط ہوسکتا ہے اور جانتا ہے اور یقین رکھتا ہے اس کو علم ہے کہ اس کی تفصیلی توجہ کی اس طرح اب ضرورت نہیں ہے وہ نظام اس کی توجہ کی برکت سے آگے چل پڑا ہے اور چلتا رہے گا اور ذیلی توجہ کرنے والے بہت سے پیدا ہو چکے ہیں۔اس لئے خدام الاحمدیہ کا نظام ہو یا لجنہ کا یا انصار اللہ کا ان میں ابھی وہ پختگی نہیں آئی وہ روانی نہیں آئی کہ خلیفہ وقت کی ذاتی براہ راست توجہ کے بغیر یہ پوری طرح جاری وساری ہو سکیں اور اپنی ذات میں Sub Conscious دماغ کے سپرد کئے جاسکیں۔خصوصاً وہ علاقے جہاں پہلے ہی رابطے کمزور ہیں ان میں ان کو اپنی کامل روح کے ساتھ جاری کرنے کی ضرورت ہے وہاں لازماً خلیفہ کو اپنی شعوری توجہ کو ان کی طرف منتقل کرنا پڑے گا اور شعوری توجہ کا رابطہ ان سے لمبے عرصے تک رکھنا پڑے گا۔پس آج کے اس خطبے کے ذریعے میں یہ اعلان کرتا ہوں کے آئندہ سے تمام ممالک کی ذیلی مجالس کے اسی طرح صدران ہوں گے جس طرح پاکستان کی ذیلی مجالس کے صدران ہیں اور وہ اسی طرح براہ راست خلیفہ وقت کو اپنی آخری رپورٹیں بھجوائیں گے جس طرح پاکستان کے صدران اپنی رپورٹیں بھجواتے ہیں۔اس کام کو ہلکا اور آسان کرنے کی خاطر میں نے یہ سوچا ہے کہ دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کے شعبہ کے ساتھ ایک شعبہ ذیلی مجالس قائم کیا جائے اور سر دست وہاں مستقل نائب پرائیویٹ سیکرٹری مقرر کرنے کی بجائے انگلستان کی جماعت سے کچھ مستعد احباب جماعت کو چن کر ان کو اس معاملے میں اپنی مدد کے لئے مقرر کروں۔وہ ان سب رپورٹوں کا مطالعہ کریں جو اس شعبہ کو موصول ہوتی ہیں اور ان کے متعلق مجھ سے وقت لے کر زبانی مجھ سے گفتگو کیا کریں اور ان خاص باتوں کو Highlight کریں یعنی نمایاں کریں جہاں میری خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔پھر میں ان رپورٹوں کی تفصیلات کو بھی پڑھ سکتا ہوں لیکن سر دست اس طرح کام آگے بڑھایا جائے گا اور میں نے یہ سوچا ہے کہ بہت سے ایسے کام ہمیں دنیا میں اب کرنے ہیں جن میں ان تنظیموں کو سب دنیا میں