خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 716 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 716

خطبات طاہر جلد ۸ 716 خطبه جمعه ۳ / نومبر ۱۹۸۹ء اس پہلو سے جب میں نے انسانی زندگی پر غور کیا تو میں حیران رہ گیا یہ دیکھ کے کہ زندگی کے وہی شعبے صرف شعور کی طرف منسوب ہیں یا شعور سے تعلق رکھتے ہیں جن میں ابھی درجہ کمال حاصل نہیں ہوا۔جو اپنی ذات میں کلیہ آزادانہ جاری وساری ہونے کی صلاحیت اختیار کر چکے ہیں ان کا تعلق بھی دماغ سے ہے مگر لاشعوری دماغ سے رہ گیا شعوری دماغ سے نہیں۔تو شعوری دماغ کی ترقی کے ساتھ لاشعوری دماغ کی ترقی ہوتی ہے اور یہ ترقی اسی وقت ہوتی ہے جب نظام کا ایک حصہ کامل ہو جائے اور اپنے درجہ کمال کو پہنچ کر مستقل حرکت شروع کر دے اس کے بعد تفصیل سے اس کی نگرانی کی ضرورت نہ رہے۔اس نقطہ کا تفصیلی ذکر اس لئے ضروری ہے کہ جماعت احمدیہ میں بھی کام بڑھنے کے ساتھ یہی واقعہ ضرور ہونا ہے اور بعض پہلوؤں سے ہو رہا ہے۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ خلیفہ وقت کا شعور بغیر زیادہ بوجھ اٹھائے اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرے تو جن باتوں میں وہ شعوری توجہ کا محتاج ہے ان میں اس کی توجہ پر بوجھ کم کرنے کے لئے اس نظام کو کامل کر دیں اور خودرو بنادیں۔جتنا نظام درجہ کمال کو پہنچتا چلا جائے گا اور خود رو ہوتا چلا جائے گا خلیفہ کی براہ راست توجہ کا محتاج نہیں رہے گا اور اس کی توجہ جو سابق میں تھی یا کئی خلفاء کی توجہ جو سابق میں رہی ان کا مجموعی فائدہ جماعت کو یہ پہنچے گا کہ اپنی ذات میں وہ نظام چل پڑے گا اور الا ماشاء اللہ شعوری دخل کی ضرورت نہیں رہے گی اور پھر وہ شعوری دماغ اور حصوں کی طرف توجہ کرنے کے لئے آزاد ہوتا چلا جائے گا۔اس مسئلے پر غور کرتے ہوئے گزشتہ خطبہ والا مضمون میرے ذہن میں پھر حاضر ہو گیا جب میں نے بیان کیا کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں جو یہ بتایا ہے کہ ہم نے چھ دنوں میں زمین و آسمان کو پیدا کیا اسے مسخر کیا ، اس کو کامل کیا اور جب وہ درجہ کمال کو پہنچ گیا اور جاری وساری ہو گیا پھر ہم عرش پر بیٹھ گئے۔تو یہ بھی ویسی ہی ایک مثال ہے۔انسانی دائرے میں عرش دماغ کے اس آخری حصے کو کہہ سکتے ہیں آخری نقطہ عروج کہہ سکتے ہیں جس پر روح مسلط ہے اور اس کا عرش بھی اسی طرح بنا ہے۔ارب ہا ارب سال کی مسلسل ترقی کے ساتھ رفتہ رفتہ زندگی نے قدم آگے بڑھائے اور ایک نظام کا دائرہ مکمل ہوا تب اس کا اونچا Next قدم قائم ہوا ایک نیا درجہ ظاہر ہوا جو رفعت میں پہلے سے بلندتر تھا اور اس طرح شعوری دماغ اپنے پیچھے ایک نظام کا ایک جلوس چھوڑ تا چلا گیا۔یہاں تک کہ انسان