خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 712 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 712

خطبات طاہر جلد ۸ 712 خطبه جمعه ۳ / نومبر ۱۹۸۹ء ایک بہت ہی بڑا کام ہے جس کے لئے بہت گہرے روابط اور مسلسل روابط کی ضرورت ہے اور محض ایک رابطہ کی رو کافی نہیں بلکہ مختلف رویں چلنی چاہئیں ہر طرف سے جو را بطے کو ایک مضبوط دھارے کی شکل میں تبدیل کر دیں۔خدام الاحمدیہ کے مرکز میں اگر صرف خدام الاحمدیہ کے بعض شعبوں کی طرف سے یا بعض مجالس کی طرف سے اطلاعیں آتی رہیں تو ان کو کچھ پتا نہیں کہ لجنہ میں وہاں کیا ہو رہا ہے۔وہاں انصار اللہ میں کیا ہو رہا ہے۔وہاں جماعت کے عمومی رجحانات کیا ہیں اور وہ اس باریک دھارے سے حاصل ہونے والی معلومات کے نتیجے میں ایک نتیجہ اخذ کرتے اور اس کے اوپر بعض احکامات جاری کرتے تو اس کے نتیجے میں بہت سی خرابیاں پیدا ہوسکتی تھیں جو خرابی دکھائی دی وہ ایک معنی میں خوبی بن گئی۔چونکہ روابط کم تھے اس لئے غلط فیصلے بھی کم ہوئے اور بہت کم ایسے مواقع پیش آئے کہ مجالس مرکز یہ نے مختلف ممالک کے بارے میں اپنی ذیلی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے ایسے فیصلے کئے جو بعد میں مشکلات کا موجب بن سکتے۔یعنی اول تو فیصلے ہی بہت کم ہوئے مگر جو فیصلے ہوئے ان میں ایسی مثالیں شاذ شاز پیش آتی رہیں۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کے تحریک جدید نے خلافت کے سامنے اپیل کی کہ مجلس خدام الاحمدیہ یا مجلس انصار اللہ یا مجلس لجنہ اماءاللہ یہ اپنی ذات میں ایسے فیصلے کر لیتے ہیں ان کو حالات کا پتا ہی کچھ نہیں اور وہ جماعت کے لئے مضر اور نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔چنانچہ ایک اور راستہ بیچ میں قائم کر دیا گیا یعنی مجالس کے صدران تو وہی رہے لیکن وہ رفتہ رفتہ اس بات کے پابند کر دئے گئے کہ تحریک جدید کو اپنا مشیر سمجھیں اور اس کے نتیجے میں ایک انوکھی سی شکل پیدا ہوگئی۔تحریک جدید انجمن کا رنگ رکھتی ہے اور نظام جماعت کے اوپر جہاں تک بیرون پاکستان کا تعلق ہے، بیرون ہندوستان یا بیرون بنگلہ دیش بھی شامل کر لینا چاہئے سارے نظام کی ذمہ دار تحریک جدید ہے۔لیکن یہاں ذیلی تنظیموں کے ایک قسم کے نائب کے طور پر یا مشیر کے طور پر کام کرنے لگی اور ذیلی تنظیموں میں یہ احساس پیدا ہونا شروع ہوا کہ یہ مشیر اتنا طاقتور ہے کہ اس مشیر کو ہم لگام نہیں دے سکتے اور جو مشیر تھا وہ عملاً نگران بن گیا لیکن عملاً نگران اس رنگ میں بنا کہ وکیل التبشیر بھی تفصیل سے ان باتوں پر غور کرنے کے بعد مشورے نہیں دیتا تھا بلکہ ایک دفتری طور پر ایک قسم کی دخل اندازی سی شروع ہو گئی اور دونوں جگہ بے اطمینانی کا احساس بڑھنے لگا۔