خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 711
خطبات طاہر جلد ۸ 711 خطبه جمعه ۳ / نومبر ۱۹۸۹ء جگہیں ایسی ہیں جہاں انسان چاہتا ہے، دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے کہ اگر یہ اس بارے میں نسبتاً زیادہ تفصیل سے گفتگو کر لیتے تو شاید یہ ایک آدھ سقم بھی نہ باقی رہتا لیکن یہ چیزیں تو ہر مصنف کی کتاب میں خواہ وہ کیسا ہی گہرا محقق کیوں نہ ہو پائی جاتی ہے لیکن ان کی کتاب میں سب سے کم پائی جاتی ہیں۔اس ذکر کی ضرورت اس وجہ سے پیش آئی کہ جماعت احمدیہ کے ذیلی نظام پر غور کرتے ہوئے میں نے اس ضرورت کو محسوس کیا کہ اس کے روابط میں کچھ تبدیلی پیدا کی جائے اور اس تبدیلی کا رجحان اسی طرف ہے جو میں نے بیان کیا اور جو اس مصنف نے بھی محسوس کیا کہ ہر نظام کے ہر شعبے کا ایک براہ راست واسطہ خلیفہ وقت کے ساتھ پایا جاتا ہے جو کام کے پھیلنے کے باوجود درمیان میں منقطع نہیں ہوتا اور کسی اور تعلق کا محتاج نہیں رہتا۔چنانچہ انہوں نے ایک مثال یہکھی کہ جن دنوں میں میں انگلستان آیا ہوا تھا۔نیو یارک سے غالبا ایک انجینئر پہنچے ہوئے تھے وہ ایک احمدیہ مسجد کا تفصیلی نقشہ اور اس کی ساری پلان اور مستقبل کے متعلق کیا کیا وہاں ہو گا وہ سب چیزیں لے کر آئے تھے اور انہوں نے ان کو بتایا کہ جب تک ہم خلیفہ وقت کو دکھا کر اس سے تمام تفاصیل منظور نہ کروالیں اور مزید ہدایت نہ حاصل کر لیں ہمیں تسلی نہیں ہوسکتی۔اس لئے ہم مجبور ہیں۔چنانچہ وہ کہتے ہیں دنیا بھر میں اتنے کام اس طرح ہورہے ہیں تفصیل کے ساتھ اور یہ سارے ایک ذات میں اکٹھے کیسے ہو سکتے ہیں۔چنانچہ اس ضمن میں انہوں نے بات چھیڑی۔خدام الاحمدیہ، انصار اللہ اور لجنہ اماءاللہ کے نظام میں میں نے محسوس کیا ہے کہ ایک رخنہ پیدا ہوا ہے جو واسطے کی کمی کا رخنہ ہے اور وہ اس طرح کہ اب تک مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے دفاتر اور انصار اللہ مرکزیہ کے دفاتر اور لجنہ کے دفاتر ربوہ میں تھے اور یہ خیال کیا جاتا تھا کہ وہ ان معنوں میں مرکز یہ ہیں کہ تمام دنیا کی مجالس کے اوپر وہ نظر رکھتے ہیں اور نظر رکھنی چاہئے ان کو اور ان کے مسائل سے واقف ہیں اور ان کی رہنمائی کر رہے ہیں۔میں نے چند سال پہلے یہ محسوس کیا کہ یہ بات درست نہیں ہے۔اور بھی بہت سے رخنے وقت کے ساتھ مطالعہ کے نتیجے میں میرے سامنے آنے شروع ہوئے۔اول یہ کہ دنیا کے اکثر ممالک کے حالات پر ان ذیلی مجالس کے دفاتر کی نہ نظر ہے ، نہ ہوسکتی ہے کیونکہ وہ بہت مختصر سا نظام رکھتے ہیں اور جو جماعتیں دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہیں ان کے مسائل کی تفاصیل ان کے حالات سے باخبری یہ