خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 713 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 713

خطبات طاہر جلد ۸ 713 خطبه جمعه ۳ / نومبر ۱۹۸۹ء جب اللہ تعالیٰ نے میرے سپرد یہ ذمہ داری فرمائی تو مجھے یہ خیال آیا کہ مرکزی تنظیموں کے وقار کو بحال کرنے کے لئے جب تک یہ دنیا کے قائدین مقرر ہیں ان کو کچھ نہ کچھ اپنی ذمہ داری کا احساس دلایا جائے اور ان سے کہا جائے کہ دنیا سے تعلق رکھو اور رابطے بڑھاؤ اور سفر اختیار کرو اور معلوم تو کرو کہ کیا ہو رہا ہے۔اس کے بعد جب اہم فیصلے کرو تو تحریک جدید سے ضرور مشورہ کرو لیکن بالعموم جو ہدایتیں تمہیں خلافت سے ملتی ہیں وہ جاری کرو دنیا میں اور اگر مرکزی کہلانا ہے تو مرکزی بنو۔چنانچہ جب انہوں نے مرکزی بننا شروع کیا تو پھر بعض اور خامیاں سامنے آنی شروع ہوئیں۔بہت سے ایسے غلط فیصلے ہونے شروع ہوئے جو پہلے کام نہ ہونے کے نتیجے میں نہیں ہوتے تھے۔اب جب کام کھل کے ہونا شروع ہوا تو پتالگا کہ یہ محدود دائرے کی اطلاعیں اور محدود دائرے کی اطلاعات جب مرکز میں پہنچتی ہیں تو مرکزی دماغ ان معلومات پر صحیح فیصلہ کرنے کا اہل نہیں بنتا۔اس لئے لازماً اس سارے نظام کو خلافت سے وابستہ کرنا پڑے گا اس طریق پر جس طریق پر دنیا کے باقی نظام وابستہ ہیں اور بیچ سے یہ جو واسطے ہیں یہ ہٹانے پڑیں گے۔چنانچہ امسال جلسہ سالانہ کے بعد میں نے مرکز یعنی پاکستان سے آئے ہوئے سلسلے کے مختلف بزرگوں اور انجمن اور تحریک اور بعض ذیلی تنظیموں کے نمائندوں سے مشورہ کیا تو سب کی بالا تفاق رائے یہی تھی کہ اس نظام میں تبدیلی کی شدید ضرورت ہے۔چنانچہ آج میں اس تبدیلی کے متعلق اعلان کرنا چاہتا ہوں۔نظام میں تبدیلی سے مراد یہ نہیں ہے کہ خدام الاحمدیہ کے نظام اور بحیثیت نظام کے تبدیل کئے جارہے ہیں صرف رابطے میں تبدیلی کا نظام مراد ہے۔تو فیصلہ یہ ہے کہ آئندہ سے جس طرح پاکستان کا صدر خدام الاحمدیہ انجمن کا نمبر بھی ہوتا ہے اور باقی ناظروں کی طرح براہ راست خلیفہ وقت کو جوابدہ ہوتا ہے اور اس سے ہدایات لیتا ہے اور اس کے سامنے اپنے مسائل رکھتا ہے اس طرح باقی دنیا کے صدران مجلس خدام الاحمدیہ بھی براہ راست خلیفہ وقت سے تعلق رکھیں اور اپنی مرکزی مجالس کا واسطہ اختیار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔یہ نظام اس لئے بھی ضروری ہے کہ آگے مجلس خدام الاحمدیہ مثلا یا دوسری مجالس بھی ہیں ان میں تفصیلی طریق کار یہ ہے کہ ایک منتظم بیرون بنایا جاتا ہے اور منتظم بیرون کی اپنی علمی حیثیت یا جماعت سے واسطے کی حیثیت کا کام کے تجربے کی حیثیت بالعموم ایسی نہیں ہوتی کہ وہ تمام دنیا کی مجالس پر جو دن بدن پھیلتی چلی جا رہی ہیں اور بڑھتی چلی جا رہی ہیں اور قوی تر ہوتی جا رہی ہیں ان پر نظر بھی رکھے ان کے