خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 66
خطبات طاہر جلد ۸ 66 60 خطبہ جمعہ ۲۷/جنوری ۱۹۸۹ء ہے۔وہ تمثیل سانپ کی شکل میں پیش کی گئی ہے۔بہت سی مماثلتیں سانپ کو شیطان کے اس تصور سے ہیں جو مذہبی دنیا میں پایا جاتا ہے لیکن ایک مماثلت گناہ کے ساتھ شیطان کو یہ ہے کہ سانپ ہر سال ایک کینچلی اُتارتا ہے یعنی اپنی ایک کھال کو کھینچ کر کانٹوں میں الجھ کر پوری طرح اُتار کے اپنے جسم سے الگ پھینک دیتا ہے۔اُس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اُس کی کھال اب ختم ہو گئی۔نیچے سے ایک نئی کھال نکل آتی ہے۔تو گناہ بد بخت کو بھی یہ کسی طرح یہ طریقہ آ گیا ہے وہ ایک کھال اُتارتا ہے تو نیچے سے دوسری کھال نکل آتی ہے۔اس طرح گناہوں کی بھی نہیں ہوتی ہیں یعنی ایک گناہ کو آپ کھینچ کر اُتاریں گے تو نیچے سے پاک دامن نہیں نکلیں گے بلکہ اُس کے نیچے ایک اور بھی گناہ کو پائیں گے۔جس طرح سردیوں میں بعض بزرگ ٹھنڈے کپڑے پندرہ میں پہن لیتے ہیں اور اُن کا اور چارہ نہیں ہوتا۔انسان جو روحانی لحاظ سے فلاکت زدہ ہو اُس نے گناہوں کے پندرہ بیس یا زیادہ کپڑے پہنے ہوتے ہیں تو ایک کپڑا آپ پھاڑ کر پھینکیں گے تو نیچے سے دوسرا بھی نکل آئے گا پھر تیسرا بھی نکل آئے گا بڑی محنت کا کام ہے، بڑی توجہ کا کام ہے اور دعا کے بغیر ممکن نہیں۔یہ عادت بڑی بُری چیز ہے گناہ کی ہو، جس چیز کی بھی ہو بہت ہی ظالم چیز ہے انسان کو اپنا غلام بنا لیتی ہے۔اس لئے عادتوں سے آزادی حاصل کریں پھر آپ ہلکے بدن کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ اگلی صدی میں داخل ہو سکیں گے۔ورنہ آپ کا بدن بھاری رہے گا اور باقی سفر مشکل ہو گا۔اس لئے اس سفر کے لئے تقویٰ کا زاد راہ چاہئے جو آپ کو اندرونی طاقت مہیا کرے گا۔تقویٰ کے بغیر آپ بدیوں سے چھٹکارا نہیں پاسکتے تو تقویٰ کا معیار بڑھائیں، خدا سے دعا مانگیں اور کوئی احمدی ایسا نہ ہو جو اگلی صدی میں اس حال میں داخل ہو کہ اُس نے اپنے گناہوں میں سے کچھ بھی نہ چھوڑا ہواور خدا کرے اکثر احمدی ایسے ہوں کہ سب نہیں تو اکثر گناہ وہ اس صدی کے دامن میں پیچھے چھوڑ جائیں اور پاک اور صاف ہو کے صحابہ کی طرح صاف اور پاک ہو کر اگلی صدی میں داخل ہوں تا کہ اس کنارے سے ایک تربیت کا نیا دور شروع ہو جائے اور وہ تربیت کا دور پھر اگلی صدی تک، اگلی نسلوں کے کام آتا رہے۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو اور اللہ اپنے فضل سے ہماری توفیق کو بڑھاتا چلا جائے۔آمین