خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 703
خطبات طاہر جلد ۸ 703 خطبه جمعه ۲۷ اکتوبر ۱۹۸۹ء کوئی ایسا اضافہ نہیں ہے کہ جس کی وجہ سے اس کا جواز ہو۔ معلوم ہوتا ہے کہ سیکرٹری تحریک جدید نے نمایاں کام نہیں کیا۔ ڈنمارک میں اکہتر سے بڑھ کر بائیس نوے یہ نویں نمبر پر ہے اور ناروے سترہ اکہتر تھا امسال ستر سنتیس ہے لیکن چونکہ تعداد میں اضافہ ہوا ہے اس لئے یہ قابل فہم ہے اور یقینا اچھی کوشش ہے۔ پس مجموعی طور پر جو عمومی مقابلہ دیکھا جائے اضافہ کے لحاظ سے تو نمبر ایک جرمنی ہے جس نے گزشتہ سال کے مقابل پر سب سے زیادہ اضافہ دکھایا ہے۔ نمبر دو کینیڈا ہے اور نمبر تین امریکہ ہے۔ اب تک کینیڈا نے نئے سال کا جو وعدہ کیا ہے وہ ایک لاکھ کینیڈین ڈالر کا وعدہ ہے۔ یوکے نے نئے سال کا وعدہ اسی ہزار سے بڑھا کر نوے ہزار پاؤنڈ کر دیا ہے۔ میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ باقی سب جماعتوں کی طرف سے جب وعدے وصول ہوں گے تو یہ جو غیر معمولی ترقی کا رجحان ہے یہ انشاء اللہ تعالیٰ قائم رہے گا۔ آخر پر میں ایک عمومی تبصرہ اس رپورٹ پر کرنا چاہتا ہوں جس کا تعلق جماعتی نظام سے ہے۔ میرا یہ تجربہ ہے کہ جماعتی نظام کی جو شاخ مستعد ہو اسی جماعت میں وہ بہتر نتائج پیدا کر دیتی ہے۔ ایک اچھا سیکرٹری تحریک جدید آ جائے تو باقی جماعت کے حالات ویسے ہی رہیں تب بھی وہ تحریک جدید کی کارکردگی میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ایک اچھا سیکرٹری وقف جدید آئے تو یہی بات وہاں ظاہر ہوتی ہے۔ اگر چہ ہم مقابلہ تو کرتے ہیں لیکن بالعموم میں نے دیکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے جو جماعت پیدا کی ہے یہ زمین کے لحاظ سے ہر جگہ زرخیز ہے۔ دنیا کے کسی کونے میں بھی آپ چلے جائیں وہاں زرخیز جماعت ہی ملے گی ۔ اگر پیدوار میں فرق پڑتا ہے تو وہ کسان کی قابلیت اور کام کرنے والے کی قابلیت کا مظہر ہوتا ہے۔ پس یہ بات یاد رکھیں کے آگے پیچھے دوڑ میں تو ضرور کچھ لوگ آگے نکلیں گے کچھ پیچھے رہیں گے لیکن بعض لوگوں کا پیچھے رہ جانا عین ممکن ہے کہ ان کی اپنی سستی اور غفلت کی وجہ سے ہو جماعت کے عمومی اخلاص کی کمی کا مظہر نہ ہو اور مجھے یقین ہے کہ یہ ایسی ہی صورت ہے۔ اس ضمن میں دو باتیں خاص طور پر میں آپ کے سامنے رکھنی چاہتا ہوں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ امراء جو اس بات کے عادی ہوں کہ جب تک وہ توجہ دیں اس وقت تک وہ کام ہوتے رہیں