خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 702
خطبات طاہر جلد ۸ 702 خطبه جمعه ۲۷/اکتوبر ۱۹۸۹ء اوسط فی چندہ و ہند تھی امسال پیالیس پاؤ نہ دس پنس ہو گئی ہے اور سوئٹزر لینڈ تیسرے نمبر پر ہے۔گزشتہ سال ستائیس پاؤنڈ پچاسی نیس فی چندہ دہندہ اوسط تھی اور امسال بیالیس تک پہنچے ہی۔دس پینس صرف پیچھے رہ گئے ہیں ہالینڈ سے۔برطانیہ گزشتہ سال پینتیس پاؤنڈ ستاون پنس تھی امسال انتالیس پاؤنڈ ہوئی ہے لیکن چونکہ یہ تعداد فرضی ہے اس لئے ہم نہیں کہہ سکتے کہ واقعہ فی اوسطاً انہوں نے کچھ اضافہ کیا ہے کہ نہیں اگر تعداد میں اضافہ ہوا تھا تو یہ اوسط گر گئی ہوگی۔آسٹریلیا کی رپورٹ بھی درست نہیں لگتی کیونکہ یہ واحد ملک ہے جہاں امسال پچھلے سال کی نسبت نصف وصولی دکھائی گئی ہے تقریباً۔پچھلے سال بنتیس پاؤنڈ بیالیس پہنس کے حساب سے انہوں نے آسٹریلین ڈالر ادا کئے تھے۔امسال سترہ پاؤنڈ ا کہتر نہیں کے لحاظ سے۔تو یہ نا قابل فہم ہے یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ دنیا میں کسی جگہ بھی جماعت احمد یہ آگے ترقی کا قدم بڑھانے کی بجائے گر جائے یا اتنا گر جائے کہ نصف کے قریب پہنچ جائے یہ ہو ہی نہیں سکتا۔اس لئے لازماً اس رپورٹ میں کوئی غلطی ہے۔مغربی جرمنی فی کس چندہ دہندہ کے لحاظ سے چھٹے نمبر پر ہے۔پچھلے سال بیتیں پاؤنڈ ا کٹھ پنس تھی اس سال اکتیس پاؤنڈ چوراسی پنس فی چندہ دہندہ ان کی قربانی ہے۔یہ بظاہر چھٹے نمبر پر ہے لیکن عملاً یہ خدا کے فضل سے آگے شمار ہونا چاہئے کیونکہ جرمنی کے احمدیوں کی فی کس آمد باقی جو ممالک میں نے جن کی فہرست پڑھی ہے ان کے مقابل پر کم ہے۔اس پہلو سے بھی خدا کے فضل سے ان کو ایک فوقیت نصیب ہوئی ہے اور ایک اور پہلو سے کہ انہوں نے تعداد میں نمایاں اضافہ کیا تھا پچھلے سال سے تو جب تعداد میں اضافے ہوتے ہیں تو چھوٹے چھوٹے بچے بھی شامل کر لئے جاتے ہیں اور ان میں فی چندہ دہندہ چندہ زیادہ نہیں بڑھتا لیکن تعداد بڑھتی ہے اور اوسط کم ہو جایا کرتی ہے تو اس کے باوجود اللہ کے فضل سے ان کو ایک خاصی اچھی رقم فی چندہ دہندہ عطا کرنے کی توفیق ملی۔کینیڈا ساتویں نمبر پر آتا ہے اور یہاں بھی چونکہ تعداد بڑھانے پر زور دیا گیا تھا اگر چہ چندہ بڑھ گیا ہے لیکن اوسط کم ہوگئی اور میں پاؤنڈ فی کس سے گر کر ستائیس انا نوے ہوگئی۔سویڈن آٹھویں نمبر پر ہے جہاں چھپیں تہتر سے گر کر میں باون ہو گئی ہے امسال۔تعداد میں