خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 704 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 704

خطبات طاہر جلد ۸ 704 خطبه جمعه ۲۷/اکتوبر ۱۹۸۹ء اور جب ان کی نظر دوسری طرف ہو تو کام ہونے بند ہو جائیں ان کے ہاں جماعتوں میں متوازن ترقی نہیں ہوتی۔بعض امراء اپنا وقت رکھتے ہیں کہ یہ اتنا حصہ میں فلاں کام پر دوں گا اور سب کو اس کام کی طرف مائل کر دیتے ہیں اور پھر وہ وقت دیتے ہیں دوسرے کام کے لئے ، پھر تیسرے کام کے لئے اور جماعت کے کام اتنے بڑھ چکے ہیں کہ ان کی توجہ ہر طرف ہو نہیں سکتی اور سال میں کسی نہ کسی پہلے سے کوئی نہ کوئی کام تشنہ تکمیل رہ جاتا ہے۔اصول یہ ہے کہ امیر اپنے ماتحت تمام شعبوں کو ہمیشہ بیدار ر کھے اور تربیت دے کام کرنے والوں کو کہ وہ امیر کی توجہ کے بغیر بھی اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر اپنے ضمیر کی روشنی سے کام کرنے کی عادت ڈالیں اور ہمیشہ اپنا محاسبہ خود کرتے رہیں۔ایسے منتظمین اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ہمیشہ اچھے نتائج ظاہر کرتے ہیں جو اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں ، اپنے آپ کو ذمہ دار سمجھیں۔وہ یہ سمجھ رہے ہوں کہ یہ سارا بوجھ ہم پر ہے، ہم جوابدہ ہیں خدا کے سامنے۔پس قطع نظر اس کے کہ ان کو یاد دہانی کرائی جاتی ہے یا نہیں وہ ہمیشہ مستعد ہو کر آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں اور ایسی جماعتیں جن میں یہ نظام جاری ہیں وہ اللہ کے فضل سے سب شعبوں میں متوازن کام کر رہی ہیں۔پاکستان میں کراچی کی ایک مثال ہے خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔گزشہ دسویوں سال سے مسلسل پورے استقلال اور ثبات قدم کے ساتھ ہر شعبے میں متوازن کام ہو رہا ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ نظام جماعت کو جس طرح نافذ کرنا چاہئے تھا اس طرح خدا کے فضل سے وہاں کے امراء کو یکے بعد دیگرے یہ توفیق ملی کہ وہ نافذ کرتے چلے جائیں اور عمومی نگرانی رکھیں۔یہ مضمون ہمیں قرآن کریم سکھاتا ہے اور قرآن کی روشنی میں میں اس کو مزید واضح کرنا چاہتا ہوں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے زمین اور آسمان کو چھ دنوں میں پیدا بھی کیا اور ٹھیک ٹھاک بھی کر دیا اور اس کے بعد ساتویں دن ہم عرش پر استویٰ کر گئے ، ہم عرش پر قرار پکڑ گئے۔اب جہاں تک آرام کا تعلق ہے خدا کے لئے تو آرام کا کوئی سوال ہی نہیں ہے وہ تو ایک انتھک وجود ہے اس لئے اس میں کیا پیغام ہے ہمارے لئے۔پیغام ہمارے لئے یہ ہے کہ جب ایک اچھا منتظم نظام کے ہر پہلوکو درست کر کے جاری کر دیتا ہے تو اس کے بعد وہ ایک بلند حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔وہ ان سب باتوں پر پھر ایک آفاقی نظر ڈال رہا ہوتا ہے اور ہر چیز کی سطح پر نیچے اتر کے پھر اس کو دخل دینے کی