خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 699 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 699

خطبات طاہر جلد ۸ 699 خطبه جمعه ۲۷ اکتوبر ۱۹۸۹ء کے سلسلے میں ۔ کاموں کے سلسلے میں بہت سے وقت دینے پڑے اور کئی پہلوؤں سے وقت کی قربانی مالی قربانی بھی بنتی رہی۔ لیکن اس کے باوجود یہ اضافہ بتاتا ہے کہ خدا کے فضل سے اس سال کو خدا تعالیٰ نے تحریک جدید میں بھی ایک سنگ میل بنا دیا ہے اور غیر معمولی اضافہ بتا رہا ہے کہ انشاء اللہ آئندہ صدی میں اسی طرح ہمیشہ غیر معمولی اضافہ ہوتے چلے جائیں گے۔ میں نے اضافہ غلطی سے کم بتایا تھا یہ لکھنے والے نے جو لکھا ہے انہوں نے لکھا ہے کہ ساٹھ فیصد اضافہ بنتا ہے۔ سات لاکھ بچاس ہزار بٹا چار لاکھ پچاس ہزار کیا جائے اس پہلو سے میں نے تخمینہ بنایا تھا لیکن اگر چار لاکھ پچاس ہزار کے اوپر یہ جمع کیا جائے یہ تین لاکھ تو ٹھیک ہے ساٹھ فیصدی اضافہ بنے گا۔ مختلف پہلوؤں سے جو ممالک کی دوڑ ہے اس کا ذکر کرنے سے پہلے یہ بھی بتادوں کے اکثر افریقین ممالک کو میں نے اس میں شمار نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ افریقہ میں اس وقت اکثر ممالک میں شدید اقتصادی بحران ہے اور گزشتہ دو تین سال سے میری یہ کوشش ہے کہ افریقہ کے ممالک چندے کے نظام میں یعنی لازمی چندے کے نظام میں تمام دنیا کی جماعتوں کے مطابق اسی طریق کو اختیار کر لیں جو باقی جماعتوں میں کیا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے افریقہ میں یہ طریق تھا اجتماعات کے موقع پر Sacrifice کے نام پر قربانی کے نام پر چندے کا اعلان کیا جاتا تھا اور بغیر کسی حساب کے جس نے جو چاہا دے دیا اور وہ چادریں اکٹھی کر کے جو بھی روپیہ بناوہ جماعت کا سالا نہ چندہ بن جایا کرتا تھا۔ تو پہلے بھی میں ان کو لکھتا رہا لیکن کسی نے توجہ نہیں کی ۔ گزشتہ سفر میں خصوصیت سے میں نے بات کی تاکید کی یہ نہیں چلے گا۔ افریقہ کی جماعت ساری دنیا کی جماعت کا ایک حص رسمیں یہاں چلیں گی جو باقی دنیا کی جماعتوں میں چلتی ہیں ۔ ہم نے تمام دنیا کو ایک وحدت عطا کرنی ہے ظاہری لحاظ سے بھی اور اس پہلو سے ایک جیسی ادا ئیں ، ایک جیسی رسمیں، ایک جیسے رواج سب دنیا میں قائم کرنے ضروری ہیں۔ چنانچہ وہ با قاعدہ اب مالی نظام جس طرح آپ کے ہاں یا دوسری جماعتوں میں قائم ہے اسی طرح افریقہ میں قائم کیا جا رہا ہے اور اس کی راہ میں بہت سی دقتیں ہیں اس لئے میں چاہتا ہوں کہ جب تک یہ نظام پوری طرح مضبوطی کے ساتھ راسخ نہ ہو جائے اس وقت تک دوسرے طوعی چندوں کی طرف ایسی توجہ نہ کی جائے۔ ایک دفعہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ ریڑھ کی ہڈی قائم ہو گئی تو اس کے اوپر پھر گوشت پوست