خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 700
خطبات طاہر جلد ۸ 700 خطبه جمعه ۲۷/اکتوبر ۱۹۸۹ء بھی اور دیگر اعضاء بھی بڑی عمدگی کے ساتھ بننے شروع ہو جائیں گے۔چنانچہ افریقہ کی طرف سے جو اطلاعات ہیں وہ اتفاقی قربانیوں کے نتیجے میں ہیں۔اتفاقی یا انفرادی کہنا چاہئے۔بعض ایسے ایسے مخلصین افریقہ میں موجود ہیں جو جماعت ان کو تاکید کرے یا نہ کرے خود پتا کر کے کہ کون سی تحریکات ہیں وہ ضرور اس میں چندے دیتے ہیں۔اور اس پہلو سے یعنی انفرادی قربانی کی عظیم الشان مثالوں کے لحاظ سے افریقہ دنیا کے کسی اور خطے سے پیچھے نہیں ہے اور میں جب دورے پر گیا ہوں تو بعض قربانی کے نمونے دیکھ کے میں حیران رہ گیا کہ کس طرح ان غریب ممالک میں جہاں شدید اقتصادی بحران ہے انفرادی طور پر ایسی ایسی عظیم الشان قربانی کی مثالیں ہیں کہ وہ دنیا کے کسی ملک کے لئے بھی قابل رشک قرار پانی چاہئیں۔بہر حال افریقہ کے اعداد و شمار اس میں شامل نہیں ہیں۔تعداد چندہ دہندگان کے لحاظ سے پاکستان کو خدا کے فضل سے سب پر فوقیت حاصل ہے اور اٹہتر ہزار (۷۸،۰۰۰ ) چندہ دہندگان کی تعداد ہو چکی ہے۔انڈونیشیا میں بھی اب تعداد کے اضافے کی طرف رجحان ہے اور آٹھ ہزار چالیس (۸،۰۴۰) انڈونیشا کے چندہ دہندگان کی تعداد ہے۔تیسرے نمبر پر جرمنی آتا ہے اس میں خدا کے فضل سے تین ہزار دو سواڑسٹھ (۳٬۲۶۸) افراد شامل ہو چکے ہیں۔چوتھے نمبر پر برطانیہ ہے جہاں دو ہزار اسی (۲۰۸۰)۔پانچویں پر بنگلہ دیش جہاں ایک ہزار سات سو پچھتر (۱،۷۷۵) اور چھٹے نمبر پر کینیڈا جہاں ایک ہزار پانچ سو پینتیس (۱،۵۳۵) اور ساتویں نمبر پر ماریشس جہاں نوسو چیں (۹۲۵) چندہ دہنگان تحریک جدید میں حصہ لے رہے ہیں۔امریکہ ماریشس کے بعد پانچ کی تعداد سے پیچھے رہ گیا ہے۔یہاں کل تعداد نو سو بیس (۹۲۰) ہے لیکن میرا اندازہ یہ ہے کہ فرضی تعداد ہے۔اسی طرح بنگلہ دیش کی تعداد بھی مجھے فرضی لگتی ہے اور برطانیہ کی تعداد بھی فرضی دکھائی دے رہی ہے۔فرضی اس لئے کہ گزشتہ سال بھی یہی تعداد دکھائی گئی تھی اور یہ ناممکن ہے کہ بعینہ اتنی ہی تعداد میں لوگ حصہ لیں کیونکہ بعض دفعہ گر جاتی ہے تعداد۔کچھ لوگ ملک چھوڑ جاتے ہیں، کچھ وفات پا جاتے ہیں، کچھ نئے بچے شامل ہوتے ہیں ، نئے لوگ شامل ہوتے ہیں۔اس لئے کم ہونا تو کسی طرح برداشت کیا جا سکتا ہے مگر بعینہ اتنی تعداد یہ صاف ظاہر کرتا ہے کہ ایک فرضی بات ہے جو تحریک جدید کا سیکرٹری تھا اس نے گزشتہ ریکارڈ دیکھ کر وہی تعداد دوبارہ لکھ دی ہے۔