خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 687
خطبات طاہر جلد ۸ 687 خطبه جمعه ۲۰/اکتوبر ۱۹۸۹ء بہتوں کے لئے ہدایت کے سامان پیدا ہوں گا اور بار بار اس کا ہادی کے طور پر ظاہر ہونا یہ بتاتا ہے، یہ بڑی عظیم خوشخبری اپنے اندر رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے دنیا کی ہدایت کے عظیم سامان پیدا کرنے والا ہے۔اس کے ساتھ ہی میں نے ایک بچھڑی کو ذبح کرنے کے متعلق بھی نظارہ دیکھا اور اسی حالت میں جب میں یہ شعر پڑھ رہا ہوں ایک آدمی ایک اچھی خوبصورت بچھڑی لے کر آتا ہے۔بچھڑا ہے لیکن ذہن میں زیادہ بچھڑی کا تصور ہے اور جو بہت خوبصورت بے داغ ،صاف ستھری بچھڑی ہے اور اس کو ذبح کرنے کے لئے میری توجہ کو اپنی طرف نہیں کھینچا گیا بلکہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ مجھے اپنے حال میں مصروف رہنے دیا گیا ہے مگر ساتھ ہی جس طرح تبر کا چھری لگا دی جاتی ہے جسم کے ساتھ اور پھر ذبح کیا جاتا ہے جانور کو اس طرح جو شخص بھی اس گائے یا بچھڑی کو لے کے ذبح کرنے کے لئے لے جارہا ہے وہ پاس سے گزرتا ہے اور چھری لمس کرتا ہے میرے بدن کے ساتھ اور پھر آگے جا کر ( میرے دل میں یہ ہے کہ ) اس نے گائے کو ذبح کرنا ہے لیکن وہ کسی انذاری رنگ میں محسوس نہیں ہوتا بلک خوشی کے اظہار کے طور پر اس گائے کو ، یعنی یہ میرے ذہن میں آتا ہے کہ وہ گائے ذبح کی جائے گی یعنی خوشی کے اظہار کے طور پر نہ کہ صدقے کے رنگ میں لیکن چھری کالمس کرنا یہ عموماً صدقے کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔اس لئے ہو سکتا ہے اس میں دونوں پہلو موجود ہوں۔ہو سکتا ہے بعض فتنے ابھی کروٹیں بدل رہے ہوں اپنی ابتدائی حالت میں اور ظاہر ہونے کے لئے تیاری کر رہے ہوں۔اس پہلو سے خدا تعالیٰ کا اس رویا میں یہ توجہ دلانا مقصود ہو کہ صدقات بھی دو، دعائیں بھی کرو اور اللہ تعالیٰ کے فضل پر بھروسہ رکھو۔میں نے ربوہ یہ پیغام تو بھجوا دیا ہے کہ میری طرف سے ایک گائے ذبح کی جائے لیکن چونکہ یہ ایک جماعتی خوشخبری معلوم ہوتی ہے اس لئے میں سمجھتا ہوں کے ہر ملک میں جہاں جہاں جماعتیں موجود ہیں وہاں گائے کی قربانی بھی دی جائے اور صرف اسی پر اکتفانہ کیا جائے بلکہ گائے کی قربانی میں توحید کا مضمون ہے۔قرآن کریم میں جہاں گائے کی قربانی کا ذکر ملتا ہے وہاں دراصل اسی قسم کی بچھڑی کا ذکر ملتا ہے جیسی میں نے رویا میں دیکھی بعینہ میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ وہی رنگت ہے لیکن جوان اور باکرہ اور خوب خوبصورت رنگ کی اور اچھی پلی ہوئی بچھڑی۔اس سے میری توجہ اس طرف بھی مبذول ہوئی کہ دعاؤں کو خالص کرنے کا حکم ہے اور