خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 674
خطبات طاہر جلد ۸ 674 خطبه جمعه ۱۳ اکتوبر ۱۹۸۹ء صلى الله کا جملہ ہے؟ کس قدر شدت کے ساتھ تذلیل کی جارہی ہے؟ اور إِذَا رَاكَ کے مضمون سے یہ بات رت اقدس محمد مصطفی ملکہ کی جس گلی سے گزرتے تھے ظاہر ہوتی ہے کہ روز مرہ کا یہ دستور تھا ۔ حضرت اق آپ سے یہی سلوک ہوا کرتا تھا اور تیرہ سال تک مسلسل یہ سلوک ہوتا رہا ہے آپ نے تو اُف نہیں کی، آپ نے تو خدا سے شکوہ ؟ خدا سے شکوہ نہیں کیا۔ خدا نے اس تذب تذلیل کو دیکھتے ہوئے ان لوگوں ؟ پر تو بجلی نہیں گرائی جو پر تو حضرت اقدس محمد مصطفی علی پر بجلیاں گرایا کرتے تھے جن کی خاطر کا ئنات کو پیدا کیا گیا۔ اس لئے آج اس سے مختلف سلوک خدا کا آپ نہیں دیکھیں گے۔ وہی سلوک ہوگا جو اس سے پہلے خدا قوموں سے کرتا چلا آیا ہے اور اگر آپ کی آنکھیں کھلی ہیں تو آپ وہ سلوک دیکھ سکتے ہیں کہ ہو رہا ہے اور ہوتا چلا جائے گا یہاں تک کہ قوم کی آنکھیں کھلیں یا یہ قوم زندہ رکھنے کے لائق نہ مجھی جائے ۔ پھر قرآن کریم ایک عمومی مضمون بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : وَمَا يَأْتِيهِمْ مِّنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُ ونَ كَذَلِكَ نَسْلُكُهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ (الحجر: ۱۳۱۲) کہ ان کے پاس کبھی کوئی رسول نہیں آیا یا آتا إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِعُونَ مگر یہ بد بخت ہمیشہ اس سے تمسخر کیا کرتے ہیں ۔ پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ اگر تمسخر کرتے ہیں تو خدا کے ہر پاک بندے کے ساتھ یہی سلوک کیا گیا ہے اور یہ آپ کی صداقت کی نشانی ہے نہ کہ جھوٹا ہونے کی نشانی وہ لوگ جو گند اچھالنے والے ہیں وہ ان لوگوں سے جا ملتے ہیں جو تاریخ میں انبیاء کے مقابل پر کھڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ، ان بروں میں جاکے شامل ہو جاتے ہیں اور انبیاء کا گر وہ ہمیشہ آپ کو وہی دکھائی دے گا جو مظلوم ہے جس کے خلاف زبانیں دراز کی جا رہی ہیں، گندا چھالے جارہے ہیں، ہر قسم کی بکواس کی جارہی ہے، ہر قسم کی ذلت اور رسوائی ان پر ٹھونسی جا رہی ہے اور یہ یک طرفہ مضمون چلتا چلا جاتا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے جیسے خدا اپنے انبیاء کی غیرت کے معاملے میں بے حس ہو چکا ہے لیکن خدا بے حس نہیں ہوا کرتا ہے ہوا کرتا خدا کا جواب ہمیشہ بالآخران لوگوں پر غالب آیا کرتا ہے اور یہ ہے۔ ۔