خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 675
خطبات طاہر جلد ۸ 675 خطبه جمعه ۱۳/اکتوبر ۱۹۸۹ء قو میں خود ہمیشہ کے لئے تاریخ میں تمسخر کا نشانہ بن جایا کرتی ہیں۔ایسے لوگوں کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ قیامت کے دن ان کے ساتھ جو معاملہ ہوگا اس میں ان کی بازی الٹا دی جائے گی۔اس وقت مؤمن ان کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح دنیا میں یہ مومنوں کو دیکھا کرتے تھے اور فرمایا دنیا میں ان کا کیا حال تھا۔اِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا كَانُوا مِن الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ (المطففين:۳۰) صرف انبیاء ہی سے نہیں بلکہ ہر اس شخص سے یہ مذاق کیا کرتے تھے جو ایمان لے آیا۔پس آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو ہم میں نہیں مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لانے والوں کے ساتھ یہی سلوک ہو رہا ہے جو سلوک انبیاء کے ساتھ کیا جاتا ہے۔قرآن کریم نے مومنوں کا ذکر بطور خاص فرمایا ہے انبیاء کا نہیں إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا یقیناوہ لوگ جو مجرم ہوئے كَانُوْا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ وہ ہمیشہ ایمان لانے والوں سے تمسخر کیا کرتے تھے۔وَإِذَا مَرُّوا بِهِمُ يَتَغَامَزُونَ (المطففین : ۳۸) جب وہ ان کے پاس سے گزرتے تھے تو آنکھیں مٹکاتے تھے اور آنکھیں مارتے تھے ( جس کو کہتے ہیں ) اور ایک دوسرے کو اشارے کیا کرتے تھے کہ دیکھو جی یہ مرزائی ، یہ قادیانی، یہ بد بخت لوگ کیا ان کا حال ہو گیا ہے آج۔وَإِذَا انْقَلَبُوا إِلَى أَهْلِهِمُ انْقَلَبُوا فَكِهِيیں اور جب وہ گھروں میں لوٹتے تھے تو گھر میں لوٹ کے یہ باتیں کیا کرتے تھے۔بڑی بڑی باتیں کرتے تھے اور بڑے بڑے مذاق اڑاتے تھے کہ آج ہم نے دیکھا ہے رستے میں چلتا ہوا ایک شخص کسی طرح مفلوک الحال، بے نفس، بے یارو مددگار اور ہم اس کے اوپر یہ باتیں سناتے رہے اور اس کو کوئی اختیار نہیں تھا کہ وہ جوابا ہمارے متعلق کوئی زبان کھول سکتا۔وَإِذَا رَأَوْهُمْ قَالُوا إِنَّ هَؤُلَاءِ لَضَائُونَ (المطففین :۳۳) اور یہ باتیں کر کے ان باتوں کو اپنی صداقت کا نشان بتاتے ہیں اور یہ بتایا کرتے تھے کہ دیکھو ہم نے یہ سب کچھ کیا، ہم بچے اور یہ جھوٹے نکلے۔یہ گمراہ لوگ ہیں۔جن کے خلاف ہم یہ یہ زیادتیاں کر رہے ہیں اور ان کی کچھ پیش نہیں جارہی۔آج پاکستان میں یہی صداقت کا نشان یہ لوگ آج پیش کر رہے ہیں جو کل ان کے کذب اور ذلت کے نشان بن کے قیامت کے دن ان کے سامنے پیش کیا جائے گا لیکن قیامت کس نے