خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 673 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 673

خطبات طاہر جلد ۸ 673 خطبه جمعه ۱۳/اکتوبر ۱۹۸۹ء قسم کے ظلم اور سفاکی کو برداشت کرتے چلے جارہے ہیں اور اس پر مسلسل ہماری تخفیف کی جارہی ہے، ہمیں بے عزت کیا جا رہا ہے، ہمیں رسوا کیا جا رہا ہے۔آخر کب تک ہم ان باتوں کو برداشت کرتے چلے جائیں۔آنحضرت ﷺ نے جواب دیا کہ دیکھو! تم میرے غلام ہو۔تم سے پہلے ایسی قو میں تھیں جنہوں نے اپنے انبیاء اور ان کے ماننے والوں سے ایسا ظالمانہ سلوک کیا کہ ابھی تم نے وہ باتیں نہیں دیکھیں اور وہ سلوک یہ تھا کہ لوہے کے آنکڑوں سے ان کی چمڑیاں ادھیڑ دی گئیں، ان کی کھالیں ادھیڑ دی گئیں اور ان کے سروں کو آروں کے ساتھ چیرتے ہوئے دو نیم کر دیا گیا لیکن ان لوگوں نے خدا کی خاطر صبر کیا اور اُف نہیں کی۔کیا تم جو میری طرف منسوب ہوتے ہو اس صبر کا نمونہ نہیں دکھا سکتے۔الفاظ یہ نہیں لیکن تاریخ میں اسی مضمون کا واقعہ ہمیشہ کے لئے انمٹ حروف میں ثبت ہو چکا ہے اور آنحضرت ﷺ کی اس نصیحت کا ایسا گہرا ان کے دل پر اثر پڑا کہ وہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد پھر بھی میرے دل میں اُف کا خیال تک نہیں آیا۔پس ہم بھی تو حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ کی غلاموں ہی میں سے اس دردناک دور میں سے گزررہے ہیں۔ہمیں بھی وہی نمونہ دکھانا چاہئے جو محمد مصطفی ﷺ کے غلاموں کو زیبا ہے جو زیب دیتا ہے ان کو جومحمد رسول اللہ اللہ کے غلام کہلانے کی خاطر یہ سارے دکھ برداشت کر رہے تھے۔پس قرآن کریم تو فرماتا ہے کہ تم سے پہلے بھی ایسا ہوا ہے اور تم سے بھی ایسا ہی ہوگا۔وہ لوگ جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی وہ لاز ما تمہیں دکھ پہنچائیں گے اور کسی بات پر ٹھہریں گے نہیں۔ہر ظلم کے بعد ایک اور ظلم کی راہ تلاش کرتے چلے جائیں گے اس ضمن میں حضرت اقدس محمد مصطفی منہ سے جو سلوک ملکہ کی گلیوں میں ہوا کرتا تھا اس کا ذکر کرتے ہوئے سورۃ الانبیاء کی ۳۷ ویں آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَإِذَا رَاكَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا اهُذَا الَّذِي يَذْكُرُ الهَتَكُمْ ۚ وَهُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمَنِ هُمْ كُفِرُونَ (الانبياء: ۳۷) کہ اسے محمد نے جب یہ لوگ تجھے دیکھتے ہیں جن لوگوں نے کفر کیا ہے تو سوائے اس کے کہ تجھ سے ٹھٹھہ کریں اور تجھے مذاق کا نشانہ بنائیں اور کچھ نہیں کر سکتے۔اَهذَا الَّذِي يَذْكُرُ الهَتَكُمْ ي وہ شخص ہے دیکھو ذرا اس کی حالت تو دیکھو یہ باتیں کرتا ہے تمہارے معبودوں کے متعلق ہے۔کیسا تحقیر