خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 654
خطبات طاہر جلد ۸ 654 خطبه جمعه ۶ اکتوبر ۱۹۸۹ء ذات اقدس کے دفاع میں سختی فرمائی ہے اور یہ ظالم اس پر بھی حملہ کرتے ہیں۔اسی طرح آپ کا جو مناظرے کا کلام غیر احمدی علماء سے ہے اس میں سے بہت سے اقتباسات پیش کر کے لوگوں کو آپ کے متعلق بدظن کیا جاتا ہے کہ آپ نے غلیظ زبان استعمال کی، آپ نے گالیاں دیں، آپ نے علماء کی شان میں یہ یہ گستاخیاں کیں ان کے قول کے مطابق وہ ساری آپ تحریرات پڑھ کے دیکھیں تو یہ اس قسم کا حملہ دکھائی دے گا جیسے آج مغربی دنیا آنحضرت کے قتال والے جہاد پر کرتی ہے کہ دیکھو انہوں نے جہاد میں ایسی ایسی سختیاں کیں۔وہ تیرہ سال مکتے کی مظلومیت بھول جاتے ہیں جن میں مسلسل یکطرفہ حملے ہوتے چلے گئے اور اتنے شدید مظالم ہوئے کہ آج بھی ان مظالم کو پڑھتے ہوئے انسان کا دل خون ہو جاتا ہے۔جن لوگوں کے حال کو چودہ سو سال گزرنے کے بعد بھی پڑھتے ہوئے دل کی یہ کیفیت ہو جاتی ہے ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جنہوں نے وہ تاریخ بنائی تھی، جنہوں نے وہ مظلومیت کی داستانیں اپنے خون سے تحریر کی تھیں، جوان ظلم کے تجربوں میں سے ہو کر گزرے تھے۔اس سارے زمانے کو بھلا کر جب بالآخر اللہ تعالیٰ نے آپ کو دفاع کی اجازت دی اس وقت کے دفاع پر یہ لوگ پھر حملے کرنے لگ جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوے کے بعد جو مسلسل سلوک آپ سے آپ کے منکروں نے کیا اور جس قسم کے ظالمانہ حملے آپ کی ذات پر کئے گئے وہ ایک لمبی تاریخ ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب مثال کے طور پر غیر احمدی علماء کے پیچھے مکذبین اور مکفرین کے پیچھے احمدیوں کو نماز پڑھنے سے منع فرمایا وہاں آپ نے مختصراً اس کا ذکر فرمایا ہے۔اتنے سال ہو گئے ہیں تیرہ یا جتنے سال بھی گزرے مجھے اس وقت صحیح یاد نہیں لیکن ایک لمبی مدت تھی مسلسل یہ لوگ میری ذات پر حملے کرتے چلے جاتے ہیں اور میری تکفیر کرتے چلے جاتے ہیں اور میں صبر سے اس کو برداشت کرتا آیا ہوں لیکن میرا ایک مقام ہے جو میں نے اپنا نہیں بنایا میرے خدا نے بنایا ہے اور وہ وقت کے امام کا مقام ہے۔وقت کے امام پر حملہ کرتے چلے جانا اور مسلسل کلیۂ شرم کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جھوٹ اور فریب سے کام لیتے ہوئے اس کو اپنے مظالم کا نشانہ بناتے چلے جانا ایک لمبے عرصے تک میں نے برداشت کیا لیکن اب میں خدا کی ہدایت کے تابع یہ اعلان کرتا ہوں۔ان مفکرین اور مکذبین کے پیچھے جنہوں نے خدا کے بنائے ہوئے امام کا انکار کر دیا ہے تمہاری نمازیں