خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 655
خطبات طاہر جلد ۸ 655 خطبه جمعه ۶ را کتوبر ۱۹۸۹ء اب جائز نہیں رہیں۔کیونکہ یہ لوگ دنیا کے بنائے ہوئے امام ہیں اور مجھے خدا نے امام بنایا ہے۔یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ لوگ جو دنیا کے بنائے ہوئے امام ہوں وہ خدا کے بنائے ہوئے امام کا انکار کرنے کی تو جرات کرتے ہوں لیکن وہ جو خدا کے بنائے ہوئے امام کو تسلیم کر چکے ہوں اس پر ایمان لے آئے ہوں وہ ان کے پیچھے پھر بھی اپنی نمازیں پڑھیں اور ان کو اپنا امام تسلیم کرتے چلے جائیں۔یہ موازانہ آپ نے کر کے دکھایا۔آپ نے فرمایا کہ یہ عقل کے خلاف بات ہے، غیرت کے خلاف بات ہے، ایمانی تقاضوں کے خلاف بات ہے کہ دنیا کے امام تو خدا کے بنائے ہوئے امام پر حملے کریں اور اس کو ر ڈ کر دیں اور اس امام کے ماننے والے ان کو ر ڈ کرنے کی جرأت نہ کرسکیں اور ان کو اپنا امام تسلیم کرنے سے انکار نہ کر سکیں۔یہ ہے اصل مضمون جس کو سمجھنے کے بعد نمازیں نہ پڑھنے کا مسئلہ اور بعض دیگر اسی قسم کے مسائل سمجھ میں آجاتے ہیں۔اب اس سارے پس منظر کو ایک طرف رکھتے ہوئے بالائے طاق رکھتے ہوئے وہ دور جو جہاد کا تھا وہ تو گزر گیا لیکن اب ایک اور شروع ہوا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس جہاد اور اس جوابی کاروائی پر حملہ شروع ہو گیا۔پس انبیاء جب بھی غیروں سے جہاد کرتے ہیں ان کے جہاد پر بھی حملے ہوا کرتے ہیں اور خدا پھر ایسے بندے پیدا کرتا چلا جاتا ہے جو ان حملوں کے جواب دیتے ہیں۔آج جماعت احمدیہ کے اوپر دوذمہ داریاں ہیں۔اولین ذمہ داری یہ ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی عملے کے جہاد پر جو حملے کئے گئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی متابعت میں مسلسل ان حملوں کے جواب دینے پر ہم مستعد رہیں۔جہاں دنیا میں کوئی سلمان رشدی پیدا ہو وہاں ہزاروں مسیح موعود کے غلام ایسے کھڑے ہو جائیں جو اس کے حملوں کو رد کریں اور اسلام کے دفاع میں حضرت محمد مصطفی ﷺ کے دفاع میں اپنی تمام قوتوں کو بروئے کار لے آئیں اور کلمیڈ ان حملوں کو کچل کے اور نا کام اور نا مراد بنا کر دکھا دیں۔دوسرا پہلو ہماری ذمہ داری کا یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے آقا کی محبت میں جو دفاعی کارروائیاں کیں اور پھر ان کارروائیوں کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا ان کے دفاع میں بھی ہم مستعد ہو جائیں اور ہمیشہ جس طرح کہ قرآن کریم فرماتا ہے سرحدوں پر اپنے گھوڑے باندھے رکھو۔جہاں حملہ ہو وہیں اس حملے کا جواب دیں اور آج بڑی شدت کے ساتھ ان دونوں