خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 653
خطبات طاہر جلد ۸ 653 خطبه جمعه ۶ اکتوبر ۱۹۸۹ء رسول اکرم ﷺ کی ذات پر عیسائی پادری حملے کرتے تھے اور نہایت گندے حملے کرتے اور نہایت گستاخانہ الفاظ استعمال کرتے تھے تو اپنے دکھ کو دور کرنے کے لئے آپ نے یہ حکمت عملی استعمال فرمائی۔آپ نے فرمایا وہ مسیح جو قرآن کا مسیح ہے جو حقیقت کا مسیح ہے وہ ان تمام عیبوں سے پاک تھا جو تم اس کے متعلق بیان کرتے ہو مگر تمہاری بائیبل تمہارے اپنے بیانات ،تمہارے اپنے مؤرخین اس مسیح کے اندر یہ یہ بد اخلاقیاں پاتے ہیں اور ان کا ذکر کرتے ہیں جو ہمارے نزدیک درست نہیں ہے۔جن کا قرآن کریم نے ذکر نہیں فرمایا لیکن تمہاری اپنی کتابیں اس یسوع کو جس کی تم پوجا کرتے ہو، جس کا کوئی حقیقی وجود نہیں کیونکہ خدا کا کوئی بیٹا نہیں تھا۔اس فرضی یسوع کو جس کی تم پوجا کرتے ہو خود اپنی تحریروں میں جس طرح دکھا رہے ہو وہ تو ایک عام انسان کے اخلاق میں بھی اگر پائی جائیں وہ باتیں تو وہ اخلاق مجروح ہو جاتے ہیں۔ایک انسان کو حق ہو جاتا ہے کہ ان پر طعن کرے تو اس تصویر کو کیوں تم نہیں سمجھتے جو تم نے خود مسیح کی بنارکھی ہے۔یہ تصویر خود داغ دار ہے اور اس تصویر کے ہوتے ہوئے تمہیں کیا حق ہے کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کی شان میں حملہ آور ہوں۔آپ کی شان میں زبان گستاخی دراز کرو۔یہ وہ مضمون تھا جس کی بہت بڑی تفصیل ہے لیکن میں نے خلاصہ آپ کے سامنے رکھا ہے کہ یہ حکمت عملی تھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی کہ آپ نے مسیح کی ذات پر حملہ نہیں کیا۔یسوع جس کو وہ خدا کا بیٹا کہتے تھے جس کا کوئی وجود نہیں تھا اس کے اس پہلو پر اس کی شخصیت کے اس پہلو پر حملہ کیا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نزدیک ایک فرضی پہلو تھا لیکن مد مقابل کے ایمان میں وہ ایک حقیقت تھی۔چنانچہ آپ نے فرمایا کہ تمہارے اپنے عقائد کے مطابق ، اپنے ایمان کے مطابق جس شخص کی تم عبادت کرتے ہو وہ ان نقائص سے پاک نہیں تھا اور اس کے باوجود آنحضرت ﷺ کی ذات اقدس پر حملہ کرنے کی جرات کرتے ہو۔یہ وہ مضمون ہے جس کو نہ سمجھنے کے نتیجے میں پھر مسلمان علماء نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذات پر حملے کئے۔اب آپ اکثر کتابیں جن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو شدید گالیاں دی جاتی ہیں آپ کی ذات پر گند اچھالا جاتا ہے پڑھ کر دیکھیں آج کل بھی ایسا لٹریچر کثرت سے پاکستان میں بھی تقسیم ہو رہا ہے اور مغربی دنیا میں بھی تقسیم ہو رہا ہے آپ یہ دیکھ کر حیران ہو جائیں گے کہ جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سختی فرمائی ہے عیسائیوں کے مقابل پر وہاں ہمیشہ آنحضرت علی کی