خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 648 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 648

خطبات طاہر جلد ۸ مصروف ہو جاتی ہیں۔ 648 خطبه جمعه ۶ را کتوبر ۱۹۸۹ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام نے بھی بڑی شدت کے ساتھ یہ جہاد کیا تھا اور آپ پر جو حملے ہوئے وہ بھی اسی جہاد پر ہوئے ہیں۔ اس مضمون کو آپ آنحضرت ﷺ کے جہاد کے تعلق سے ملا کر دیکھیں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا والسلام کا ایک عجیب کردار نظر کے سامنے اُبھرتا ہے۔ آپ پر جتنے حملے ہوئے وہ اپنے آقا کے جہاد کے دفاع کے میدان میں ہوئے ہیں اور سب سے زیادہ سخت حملے بد قسمتی سے خود مسلمان علماء نے آپ پر کئے ۔ چنانچہ اس کی مثال ایک یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو آج دنیا میں حضرت مسیح کی ہتک کرنے والے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے اور عیسائی ممالک میں خصوصیت کے ساتھ ، بکثرت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وہ اقتباسات پھیلائے جارہے ہیں جن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُن کے قول کے مطابق حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام پر بڑے سخت حملے کئے ہیں اور آپ کو ایک نعوذ بالله من ذالک ایک بد کردار انسان کے طور پر ظاہر کیا ہے۔ یہ وہ میدان جہاد ہے جس کے متعلق کچھ روشنی ڈالنی ضروری ہے اور ایک فرق کر کے دکھانا ضروری ہے تا کہ جب بھی جماعت احمدیہ کو خصوصاً مغرب میں ایسے معاملات سے واسطہ پڑتا ہے تو وہ اس حقیقت کو خوب اچھی طرح سمجھ جائیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کونسی حکمت عملی استعمال فرمائی، کیوں سختی کی اور اس سختی کی بنیاد کیا ہے؟ بنیاد وہی ہے جس کا میں ذکر کر چ چکا ہوں ۔ عیسائی دنیا جب آنحضرت ﷺ کے جہاد پر حملہ آور ہوتی تھی اور اس کے علاوہ آپ کے ذاتی کردار پر حملہ آور ہوتی تھی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے یہ بات برداشت کرنا کسی طرح ممکن نہیں تھی۔ ایسی شدید محبت تھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو حضرت محمد مصطفی حملے کی ذات سے کہ آپ کی محبت میں آپ نا تھے۔ اس کے مقابل پر کوئی دوسری چیز آپ کو دکھائی نہیں دیتی تھی۔ پس کیسے ممکن تھا کہ ایسے گندے اور شدید حملے دشمن کی طرف سے مسلسل کئے جاتے رہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خاموش رہیں ۔ الله یہ وہ دور ہے جبکہ برطانوی حکومت کا تقریباً تمام دنیا پر راج تھا یعنی اس حد تک دنیا پر راج تھا کہ ان کا سورج دنیا پر غروب نہیں ہوتا تھا۔ دنیا کا کوئی نہ کوئی حصہ ایسا ضرور تھا جس کے طول و عرض