خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 649 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 649

خطبات طاہر جلد ۸ 649 خطبه جمعه ۶ اکتوبر ۱۹۸۹ء میں جہاں برطانیہ کی حکومت کا عمل دخل تھا اور ایسے موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے جہاد کا ذرا نقشہ ذہن میں جما کر دیکھیں۔ایک ایسے ملک میں پیدا ہوئے جو نہ صرف غلام ملک تھا بلکہ بالکل دنیا کے ممالک میں ایک بے طاقت اور بے حیثیت ملک بن چکا تھا۔جہاں مسلمانوں کا حال یہ تھا کہ آئے دن پنجاب میں مثلاً وہ سکھ جو اس دور میں مطلق العنان چھوٹی چھوٹی ریاستیں بنا بیٹھے تھے اور آپس میں بھی لڑتے تھے اور مسلمانوں کے خلاف بھی نبرد آزما تھے وہ مسلمانوں پر اس قدر شدید مظالم کر رہے تھے کہ ان کے دفاع میں کوئی ان کی طرف سے لڑنے والا نہیں تھا، کوئی ان کو امن دینے والا نہیں تھا، کوئی ان کی بات سنے والا نہیں تھا اور نہایت ہی مفلوک الحال زندگی بسر کر رہے تھے۔دوسری طرف ہندوستان میں انگریز نے چونکہ قبضہ کر لیا تھا اس لئے ہندوؤں کو مسلمانوں کے مقابل پر اُٹھا رہا تھا اور ہندو بھی بہتر حکمت عملی سے کام لیتے ہوئے انگریزی تعلیم میں ترقی کر رہے تھے۔انگریزوں کے ساتھ اس زمانے میں بکثرت ہاں سے ہاں ملاتے ہوئے ان کی حکومت میں ان کے مددگار بن رہے تھے۔چنانچہ تعلیم کے تمام میدانوں میں مسلمان پیچھے رہ گئے اور ہندو آگے نکل گئے اور اس کے نتیجے میں انگریزوں نے اپنی حکومت چلانے کے لئے جو ہندوستانی کارندے استعمال کئے ان پر ہندوؤں کی بڑی بھاری اکثریت تھی۔ایسی حالت میں آپ نے خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک اعلان کیا کہ مجھے خدا نے عیسائیت کے خلاف نبرد آزما ہونے کے لئے اور حضرت اقدس محمد مصطفی علیہ کے دفاع کے لئے مقرر فرمایا ہے۔اب آپ دیکھئے کہ کیسی کس مپرسی کی حالت ہے۔ہندوستان جیسے مغلوب ملک میں ایک ایسی قوم سے تعلق رکھنے والا شخص جو خو داس ملک کے اندر بھی مغلوب ہو چکی ہو اور پھر ایسے علاقے میں پیدا ہوا ہو جہاں چاروں طرف جبر کی ایسی حکومت ہو کہ وہاں مسلمانوں کو دم مارنے کی اجازت نہ ہو کام یہ سپرد ہو گیا کہ دنیا کی سب سے بڑی طاقتور حکومت کے مذہب کے خلاف تم نے جہاد کرنا ہے اور جہاد بھی ایسی قوم سے کرنا تھا جو آنحضرت ﷺ پر حملوں میں نہایت درجہ بے رحم اور ظالم تھی اور ایسے سفا کا نہ حملے تھے کہ کوئی مومن جو آنحضرت ﷺ سے معمولی محبت بھی رکھتا ہو وہ بھی ان حملوں کو برداشت نہیں کر سکتا لیکن پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا دل جو ہمیشہ عشق میں پگلا ہوا ایک سمندر بنارہتا تھا آپ کے لئے اندازہ کریں کہ کتنی مشکل در پیش ہوگی۔ایسے موقع پر آپ نے ایک ایسی عظیم الشان حکمت عملی سے کام لیا ہے کہ بعد میں آنے والا