خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 647 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 647

خطبات طاہر جلد ۸ 647 خطبه جمعه ۶ را کتوبر ۱۹۸۹ء کے مقابل پر لکھیں اور وہاں آپ پر خشونت کا بختی کا سخت کلامی کا اور کئی جگہ نہایت بد اخلاقی کے الزام لگائے گئے ہیں۔پس یہ دونوں قسم کے الزام دراصل ایک ہی نوعیت کے ہیں۔وہ انبیاء جن کو خدا نے تلوار سے اپنے دفاع کی اجازت دی اس لئے کہ تلوار سے ان پر حملے ہورہے تھے انہوں نے جب تلوار سے جواب دیا تو بعد میں آنے والے دشمنان نے وہ پہلو نظر انداز کر دیا جسے دشمن نے اختیار کیا تھا اور اس میں پہل کی تھی۔دشمن کی زیادتیاں سب بھلا دیں۔تاریخ کا وہ حصہ جس میں سراسر دشمن ظلم کرتا ہوا اور تعدی کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے اس پر اس طرح ہاتھ رکھ دیا گویا وہ تاریخ کا باب ہی کوئی نہیں اور صرف ان صفحات کو اُبھارا ہے جن پر انبیاء کی جوابی کارروائی درج ہے۔چنانچہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جارہا ہے۔آپ کے مناظروں کی کتب کا مطالعہ کرتے ہوئے جب دشمن کی سختیوں کے جواب میں آپ سختی کرتے ہیں، جب دشمن کے حملوں کے جواب میں آپ بعض قسم کی حکمت عملی سے کام لیتے ہیں تو وہی دشمن پھر اس پہلو پر بھی حملہ آور ہوتا ہے اور اس پہلو سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کردار کو داغ دار کر کے دنیا کے سامنے دکھانے کی کوشش کرتا ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے دفاع میں جماعت احمد یہ جو عالمی جہاد کر رہی ہے اس کا بڑا حصہ اسی میدان سے تعلق رکھتا ہے۔سلمان رشدی نے جو کچھ گند اُچھالا ہے یا اس سے پہلے دوسرے مستشرقین جو گند اچھالتے رہے ہیں ان میں نمایاں پہلو حضرت اقدس محمد مصطفی مے کے کردار پر جبر کے الزام سے تعلق رکھتا ہے اور کس طرح آپ نے خونریزی سے کام لیا اور کس طرح آپ نے دشمنوں کو اپنی قوت بازو سے ذلیل و رسوا کر دیا اور پھر فتوحات کے بعد بہت سی ان کے نزد یک انتقامی کارروائیاں کیں۔بعض ان کے نزدیک ایسے غزوے بھی آپ کے ہوئے جن میں بظاہر دشمن کی طرف سے پہل نہیں تھی اور آپ نے دشمن کے مقابل پر بڑی شدت اختیار کی۔غزوہ خیبر ہے ، اسی طرح مدینے میں یہود کے ایک قبیلے کو سزا دینے کا معاملہ ہے، یہ سارے معاملات وہ ہیں جو اسی میدان جہاد سے تعلق رکھتے ہیں جس کا میں نے ذکر کیا ہے اور جس پر بعد ازاں دشمن مسلسل حملہ کرتا چلا جاتا ہے اور وہ جہاد ایک نئی شکل میں بعد میں جاری ہو جاتا ہے۔انبیاء کی جماعتیں پھر اس دفاع میں مصروف ہوتی ہیں اور دشمن کے ہر حملے کو غلط اور بے معنی اور بے حقیقت دکھانے میں