خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 642
خطبات طاہر جلد ۸ 642 خطبه جمعه ۲۹ ستمبر ۱۹۸۹ء اٹھتی ہیں وہ ان رحمتوں کو دیکھ کر کمزور نہیں پڑتیں بلکہ اور زیادہ نمایاں ہوتی چلی جاتی ہیں اور یہ درد تو جاری رہے۔میں نے کہا کہ خدا تمہارا بھلا کرے تم بہت ہی ذہین خاتون ہو۔تم نے بالکل دل کی بات جانچ کی ہے لیکن اسے یہ پتا نہیں کہ یہ درد کی لہریں ہی تو ہیں جو خدا کا فضل بن کر نازل ہوتی ہیں۔یہ درد کی لہریں ہی تو ہیں جو د عا بن کر دل سے اُٹھتی ہیں اور فضلوں کی گھٹا بن کر ہم پر برستی ہیں۔اس لئے اے احمدی! تو اپنے درد کی لہروں کی حفاظت کر اور اس سے مایوس نہ ہو۔ہاں ان درد کی لہروں کو تو دعاؤں کے بخارات میں تبدیلی کرتا چلا جا۔شہادت کی جتنی خبر میں ہمیں پاکستان سے موصول ہوتی ہیں جیسا کہ رات موصول ہوئی ایک بہت ہی بزرگ ڈاکٹر عبدالقدوس صاحب کوکل نوابشاہ میں ظالمانہ طور پر شہید کر دیا گیا جبکہ اس سے تھوڑا عرصہ پہلے ان کے چھوٹے بھائی کو بھی شہید کیا گیا تھاوہ بھی ڈاکٹر تھے اور دونوں کو ایک ہی طریق پر ایک ہی جتھے اور ایک ہی گروہ نے کروایا ہے، اپنی طرف سے مروایا اگر چہ ہم جانتے ہیں کہ ہمیشہ کی زندگی عطا کی۔وہ ایسے سادہ دل، ایسے سادہ لوح ڈاکٹر تھے کہ جانتے تھے کہ ہر دفعہ دشمن یہی طریق اختیار کرتا ہے کہ ایک مریض کرنے والا ہے اس کو دیکھنے کے لئے چلو اور جب انسان باہر نکلتا ہے انسانی ہمدردی میں تو بعض قاتل جو چھپے ہوئے اس کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں وہ اچانک حملہ کر کے احمدی ڈاکٹروں کو شہید کر دیتے ہیں۔یہ اچھی طرح جانتے تھے ان کی شہادت سے چند دن پہلے مجھے ان کا خط موصول ہوا۔اس میں انہوں نے کہا کہ میرا بھائی شہید ہوا ہے مگر میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم اس کے نتیجے میں ڈرے نہیں کمزور نہیں پڑے۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میرا جذبہ شہادت پہلے سے کئی گنا بڑھ گیا ہے۔انہوں نے میرا ایک بھائی شہید کیا ہے مگر میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میری ساری اولا دبھی اس راہ میں شہید ہوتی چلی جائے تو مجھے اس کا کوئی دکھ نہیں ہوگا اس لئے میرے متعلق آپ ہرگز فکر نہ کریں۔کتنا سچا انسان تھا، کیسی اس کی دل کی گہرائی کی آواز بلند ہوئی۔جب اس کی شہادت کی اطلاع مجھے ملی تو بے اختیار میری زبان پر قرآن کریم کی وہ آیت جاری ہوئی فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ مَّنْ يَنْتَظِرُ (الاحزاب: ۲۴) ان خدا کے بندوں میں وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی نیتوں کو پورا کر دکھایا۔جو اپنے قول اور اپنی تمناؤں میں سچے نکلے لیکن صرف یہی نہیں ہیں اور بھی بہت سے ہیں جو اسی قسم کے نمونے دکھانے والے موجود ہیں۔جب بھی ابتلاء آئیں گے وہ ان کو