خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 616 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 616

خطبات طاہر جلدے 616 خطبه جمعه ۵ ار ستمبر ۱۹۸۹ء اے میرے دوست میں نے تو جب بھی تجھے دیکھا ہے ایک نیا جلوہ تیرے اندر دیکھا ہے۔تیر اشنا سا ہونے کا جتنی میں کوشش کرتا ہوں میں تیرا شناسا نہیں ہوسکتا کیونکہ جب میں سمجھتا ہوں کے میں تجھے پہچان گیا ہوں تو تیرا ایک اور حسن مجھ پر ظاہر ہوتا ہے تو ایک اور جلوہ نمائی کرتا ہے۔کسی انسان کے متعلق تو یہ شعر نہیں کہا جا سکتا سوائے ان خدا رسیدہ انسانوں کے متعلق جو خدا کے جلوؤں میں اس قدر آگے بڑھ چکے ہوتے ہیں کہ عام انسان ان کی جتنی بھی پیروی کرے ان کے جلوؤں کا احاطہ نہیں کر سکتا۔اس لئے خدا نہ ہوتے ہوئے بھی عام انسانوں سے وہ اتنا فرق رکھتے ہیں کہ ہر انسان اگر ان کا شناسا ہونے کی کوشش کرے تو اپنی عمر گزار دے گا ان کی کننہ کو، ان کے حسن کی وسعتوں کو پا نہیں سکتا۔پس اگر دنیا میں یہ شعر کسی پر صادق آسکتا ہے تو حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ذات پر آ سکتا ہے کیونکہ آپ کی ذات پر ہرلمحہ خدائی شان سے ظاہر ہوتا رہا اور جس شان سے بھی خدا آپ پر ظاہر ہوا آپ نے ہر اس شان کو اپنا لیا ، ہر اس شان سے چمٹ کر بیٹھ گئے اس کو اپنے وجود کا حصہ بنالیا۔پس اگر کوئی شخص حضرت محمد مصطفی امی کو دیکھتے ہوئے مسلسل یہ کہتا چلا جائے کہ : جب بھی دیکھا ہے تجھے عالم نو دیکھا ہے مرحلہ طے نہ ہوا تیری شناسائی کا اس شعر کا ایک ایک لفظ حقیقت کے طور پر آنحضرت ﷺ پر صادق آتا چلا جائے گا اور ایک بھی زندگی کے سفر کا قدم ایسا نہیں ہو سکتا جس میں آپ آنحضرت ﷺ کو دیکھیں اور آپ میں جلوہ نو نہ دیکھیں۔چنانچہ قرآن کریم نے اس بات کی گواہی دی ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْأُولى (الضحی : ۵) اے محمد ! تیرا ہر آنے والا لمحہ ہر گزرے ہوئے لمحے سے بہتر ہوتا چلا جا رہا ہے۔اس کی کیا وجہ تھی ؟ اس کی یہی وجہ ہے کہ آپ نے اپنے خدا کو کسی جامد حالت میں نہیں پایا بلکہ پھیلتے ہوئے اور آگے بڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور جوں جوں حضرت اقدس محمد مصطفی یہ اپنے محبوب آسمانی آقا سے شنائی حاصل کرے چلے گئے جوں جوں آپ عرفان میں بڑھتے چلے گئے وہ خدا بھی آگے بڑھتا رہا اور مزید وسعت اختیار کرتا رہا اس لئے حضور اکرم ﷺ کے ہرلمحہ ایک نیا ظاہر ہونے والا خدا تھا جس کے جلوے سے آپ مد ہوش ہوتے رہے۔