خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 617 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 617

خطبات طاہر جلدے 617 خطبه جمعه ۱۵ر ستمبر ۱۹۸۹ء پس خدا کا عشق حقیقی ہے کیونکہ اس عشق کی راہ میں کوئی بھی ایسی روک نہیں ہے کوئی ایسی منزل نہیں ہے جہاں یہ عشق کھڑا ہو جائے اور اس عشق کے کھڑے ہونے کے نتیجے میں ایک قسم کی بوریت پیدا ہو جائے۔انسان میں اکتاہٹ پیدا ہونی شروع ہو جائے۔بوریت کا غالباً بہتر ترجمہ اردو میں اکتاہٹ ہی ہے۔تو خدا کی محبت میں اکتاہٹ کا کوئی سوال نہیں ہے لیکن ضروری ہے کہ انسان جس خدا کو پائے اسے اپنائے اسے اپنی فطرت میں داخل کرے۔اگر آپ نے خدا کو دیکھا اور اپنایا نہیں تو آپ کا خداو ہیں ٹھہر جائے گا اور آپ کی ترقی کی ساری راہیں بند ہو جائیں گی۔اس لئے یہ راز ہے جو میں آپ کو سمجھانا چاہتا ہوں۔خدا تعالیٰ کو دیکھ کر اگر اس کی طرف آگے نہیں بڑھیں گے تو وہ نعمت کا انکار ہے۔خدا تعالیٰ کو دیکھ کر اس کی طرف آگے بڑھنے کا مطلب صرف یہ ہے کہ اسے اپنا ئیں اور اسے اپنی ذات میں جاری کرنے کی کوشش کریں۔اس کی صفات حسنہ سے لذت پاتے ہوئے محض تعریف نہ کریں محض زبان سے نہ کہیں کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الفاتح (۲) بلکہ اپنے اعمال سے کر کے دکھا ئیں کہ ہاں ہمیں یہ صفات پسند ہیں ہمیں حقیقتاً پیاری لگتی ہیں اسی لئے ہم اپنی ذات میں بھی ان کو جاری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔جہاں آپ نے یہ قدم بڑھایا وہاں ایک اور خدا آپ پر ظاہر ہونے لگے گا اس کی اور صفات حسنہ آپ کے آگے کھڑی ہو جائیں گی اور آپ کو بلائیں گی کہ ہاں میری طرف بھی آؤ۔پس یہ وہ مضمون ہے جس کو سمجھنا جماعت احمدیہ کے لئے اور خاص طور پر نو جوانوں کے لئے ضروری ہے کیونکہ وہ ایک جذباتی دور سے گزر رہے ہیں۔محبت کرنے کے سلیقے جانتے ہیں۔محبت کرنے کی طاقتیں خدا نے ان کو عطا کی ہوئی ہیں۔پس ان طاقتوں کو دنیا میں کھونے اور ضائع کرنے کی بجائے اگر وہ اپنے خدا کی طرف لگا دیں گے تو پھر ان پر دعا کا حقیقی مضمون بھی واضح ہو گا۔پھر ان کو معلوم ہوگا کہ کس طرح خدا ہر روز ان کی دعا کو پہلے سے زیادہ قبول کرتا چلا جاتا ہے پہلے سے زیادہ ان کی فکر کرتا ہے، پہلے سے زیادہ ان کی بیتاب پکار کا جواب دیتا ہے اور اس مقصد کو حاصل کئے بغیر ہم تمام دنیا کے دلوں کو خدا کی خاطر فتح کرنے کا خواب اگر دیکھیں بھی تو وہ پورا نہیں ہوسکتا۔خواب تو یہ ہم سب دیکھ رہے ہیں لیکن اس کی تعبیر انہیں رستوں سے آپ کو ملیں گی جو میں نے آپ کو بتا ئیں ہیں۔پس ہمیشہ باشعور طور پر ان معنوں میں اپنے خدا کے قریب ہونے کی کوشش شروع کر دیں