خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 615
خطبات طاہر جلدے 615 خطبه جمعه ۵ ار ستمبر ۱۹۸۹ء ہیں کہ ہم نے اس کو پالیا ہے ہم نے اس کو پکڑ لیا ہے۔کیونکہ خدا کا تصور عرفان کے ساتھ ساتھ پھیلتا ہے اور جتنا آپ زیادہ خدا والے بنیں گے اتنا ہی خدا اور زیادہ پھیلتا ہوا دکھائی دے گا اور زیادہ وسیع تر دکھائی دے گا۔پس جتنا خدا آپ کے لئے وسعت اختیار کرتا چلا جائے گا اتنا ہی آپ کے جذبہ محبت میں اور زیادہ جوش پیدا ہوتا چلا جائے گا۔یہ اس لئے ضروری ہے اس بات کو سمجھنا کہ اگر آپ خدا کو جامد سمجھتے ہوئے خدا کی طرف بڑھیں تو آپ کی محبت ایک مقام پر جا کر رک جائے گی۔دنیا کے تعلقات میں بھی دیکھا گیا ہے بعض لوگ کسی انسان کے حسن پر فریفتہ ہو جاتے ہیں جب تک اس کو نہیں پاتے ان کی محبت میں آگ لگی رہتی ہے جب اس کو پالیتے ہیں تو کچھ دنوں کے بعد محبت بجھ جاتی ہے۔انسان سمجھتا ہے کہ بس یہی کچھ تھا جو میں نے پالیا اور تھوڑی دیر کے بعد جوحسن قرب کی لذت بخشتا ہے ایسا بھی ہوتا ہے بعض دفعہ کہ وہ قرب کی لذت بخشنے کی بجائے قرب کے نتیجے میں بے چینی پیدا کرنا شروع کر دے۔انسان بور ہونے لگ جاتا ہے۔ایک ہی جیسی چیز ہر روز آپ کو ملے تو کیسے آپ کی زندگی مزے سے کٹ سکتی ہے۔بعض لوگوں کو مرغا پسند ہوتا ہے ، بعضوں کو دال پسند ہوتی ہے، بعضوں کو آلو گوشت پسند ہے، بعضوں کو کریلے گوشت پسند ہے۔ہر قسم کے کھانے ہر قسم کی پسند لیکن ایک ہی کھانا جو آپ کی پسند کا ہوا گر آپ روزانہ کھانا شروع کر دیں تو کچھ دنوں کے بعد وہ منہ کو آنے لگے گا۔پس یاد رکھیں کہ ایسا کوئی خطرہ بندے اور خدا کے تعلق کے درمیان واقع نہیں ہوسکتا کیونکہ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ کا مضمون ہمیں یہ سمجھا رہا ہے اور ہمیں یہ یقین دلا رہا ہے کہ جتنا چاہو خدا کی طرف بھا گو اور جتنا چاہو اسے اپناؤ ہم تمہیں یقین دلاتے ہیں کہ ایک بھی دن ایسا نہیں آئے گا کہ جب تم خدا کے حسن سے بور ہونے شروع ہو جاؤ اور یہ سمجھو کہ بس ہم نے دیکھ لیا جو دیکھنا تھا۔ہر روز وہ نئے جلوے دکھائے گا۔اس مضمون پر ایک دفعہ پہلے بھی میں نے ایک شعر آپ کو سنایا تھا غالباً احمد ندیم قاسمی کا ہے لیکن جس کا بھی ہے وہ بہت عمدہ شعر ہے۔وہ کہتا ہے کہ: جب بھی دیکھا ہے تجھے عالم نو دیکھا ہے مرحلہ طے نہ ہوا تیری شناسائی کا