خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 611
خطبات طاہر جلدے 611 خطبه جمعه ۱۵ر ستمبر ۱۹۸۹ء جہاں جہاں اشتراک پائے جائیں گے وہاں یہ فطری تقاضا ضر ور کارفرما ہوگا۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں دعا کے مضمون میں بھی یہی بات سکھائی ہے کہ تم میرے ساتھ اپنی قدر مشترک پیدا کرو۔یہ نہ ہو کہ تم غیر کے بنے رہوا اور پھر مجھے پکارو اور پھر یہ خیال کرو، یہ وہم دل میں لاؤ کہ میں ضرور تمہاری پکار کا جواب دوں گا۔آنحضرت میﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِى (البقره: ۱۸۷) جب میرے بندے میرے متعلق سوال کریں فَإِنِّي قَرِيب تو میں تو قریب ہوں۔یہاں لوگ بعض دفعہ لفظ عبادی کا مفہوم نہ سمجھنے کے نتیجے میں غلط نتیجے نکال لیتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ عبادی سے مراد ہر کس و ناقص ہر قسم کا انسان عبادی کے ذیل میں آجاتا ہے خواہ اس کا وہ گندا ہو، خواہ وہ گمراہ ہو، خواہ وہ خدا کی ہستی کا منکر یا اسے گالیاں دینے والا ہو، خواہ وہ بندوں پر ظلم کرنے والا ہو۔عِبَادِی کی ذیل میں وہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہر قسم کے انسان شامل ہو جاتے اور خدا کا ان کو جواب یہ ہے کہ میں تمارے قریب ہوں حالانکہ واقعہ ہرگز ایسی بات نہیں ہے۔خدا اسی کے قریب ہوتا ہے جو خدا کے قریب ہو اور عِبَادِی سے مراد یہاں وہ غلام ہیں جو عبادت کے ذریعے خدا کے رنگ سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔وہ جب پوچھیں کے ہمارا خدا کہاں ہے تو خدا جواب دیتا ہے فَانِي قَرِيبٌ میں تو تمہارے ساتھ رہتا ہوں۔پس پہلے قرب شخصیت کا ہونا چاہئے ، پہلے قرب خصلتوں کو ہونا چاہئے ، عادات کا ہونا چاہئے ، مزاج کا ہونا چاہئے ، انسانی رجحانات کا قرب ہونا چاہئے۔ان سارے قرب کے ذریعوں کو استعمال کرتے ہوئے آپ خدا کے قریب ہونے کی کوشش کریں تو پھر آپ عبد بنیں گے اور اگر آپ خدا کے مزاج کے مطابق اپنا مزاج ڈھالنے کی کوشش کریں تو پھر دیکھیں کہ کس طرح خدا آپ کے قریب ہے۔انسان جب انسان کے قریب ہوتا ہے یا حیوان حیوان کے قریب ہوتا ہے تو جیسا کہ میں نے مثالیں دی ہیں ان میں آپس میں ایک محبت اور دوستی کا گہراتعلق پیدا ہو جاتا ہے اور ایک دوسرے کے لئے پھر وہ مدد کرنے پر بھی آمادہ ہوتے ہیں اور قربانی کرنے پر بھی آمادہ ہوا کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا سلوک اپنے بندوں سے اس سے بھی بڑھ کر ہے۔وہ لوگ جو خدا کے بن جاتے ہیں اور خدا کی صفات اپنے اندر جاری کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کی دعاؤں کو غیر معمولی قبولیت عطا کی جاتی ہے اور ان کو خدا اتنی فوقیت دیتا ہے دوسروں پر کہ ان کی خاطر بعض دفعہ بڑے بڑے