خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 612
خطبات طاہر جلدے 612 خطبه جمعه ۱۵ر ستمبر ۱۹۸۹ء انسانی گروہ ہلاک کر دئے جاتے ہیں اور اس میں کوئی نا انصافی نہیں۔وہاں یہ نہیں کہا جا سکتا جیسے حضرت نوح کی قوم کو ہلاک کیا گیا کہ اے خدا! ہم بھی تو تیرے بندے تھے ہم سے تو نے کیوں امتیازی سلوک برتا ہے؟ کیوں نوح اور اس کے چند ماننے والوں کی خاطر تو نے اتنے بڑے اور اتنے وسیع علاقے میں پھیلے ہوئے انسانی گروہ کو ہلاک کر دیا ؟ ویسا ہی سوال ہے جیسا آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم سے کیوں ایک استثنائی سلوک کیا گیا۔امر واقعہ یہ ہے کہ یہ ایک فطری سلوک ہے اور یہ فطرت زندگی کو خدا سے عطا ہوئی ہے۔اللہ تعالیٰ کی ذات میں اس کی صفات حسنہ میں یہ صفت شامل ہے کہ جو اس جیسا ہوگا اس کے ساتھ وہ زیادہ محبت اور پیار کا سلوک کرے گا۔جو ان جیسا نہیں ہو گا وہ دور ہو جائے گا اور نزدیک سے جو سلوک ہوتا ہے وہ دور سے نہیں ہوا کرتا۔پس فاصلے خدا پیدا نہیں کرتا۔فاصلے پیدا کرنا بڑھانا یا کم کرنا یہ انسان کے بس میں ہے اور انسان کے اختیار میں یہ بات رکھی گئی ہے۔پس اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی دعائیں قبول ہوں اور جس طرح دنیاوی قومیں اپنی ہم جنس قوموں کی طرف محبت اور شفقت سے لپکتی ہیں اور ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی کوشش کرتی ہیں اسی طرح خدا اپنی رحمت کے ساتھ آپ کی طرف لپکے اور آپ کی ضروتوں کو پورا کرنے کی کوشش کرے اور آپ سے اپنے قرب کا سلوک آپ کو بھی دکھائے اور دنیا کو بھی دکھائے تو پھر آپ کے لئے ضروری ہے کہ یہی فطری طریق اختیار کریں جو خدا نے ہمیں سکھایا ہے اور ساری کائنات میں زندگی کی ہر قسم اس سلوک کا مظہر ہے۔پس احمدی نو جوانوں کو خصوصیت کے ساتھ اس عمر میں جبکہ ابھی زندگی بھر پور ہے۔انسان کی تمنائیں بھی زندہ ہوتی ہیں، اس کے جذبات بھی جو بن پر ہوتے ہیں ،اس کی محبتیں بھی جو بن پر ہوتی ہیں، اس کی نفرتیں بھی جو بن پر ہوتی ہیں انسان میں۔جسمانی لحاظ سے بھی یہ طاقت ہوتی ہے کہ وہ جس طرف چاہے اپنی زندگی کا منہ موڑ لے اور پھر بڑی قوت کے ساتھ ان رستوں پر سفر شروع کرے جو اپنے لئے معین کرتا ہے۔یہ جو نو جوانوں کو فضیلت حاصل ہے وہ دوسری عمر کے لوگوں کو ایسی نہیں۔نہ بچوں کو ان باتوں میں جوانوں کا مقابلہ کرنے کی توفیق مل سکتی ہے نہ بوڑھوں کو اپنے ہم جنس ، اپنے ساتھیو، اپنے بچوں وغیرہ کے ساتھ اس قسم کا مقابلہ کرنے کی توفیق مل سکتی ہے۔