خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 610 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 610

خطبات طاہر جلدے 610 خطبه جمعه ۱۵ارستمبر ۱۹۸۹ء اتنی قسمیں موجود ہیں اور اتنے زیادہ اشتراکات موجود ہیں کہ اس سے بڑھ کر انسانی یا حیوانی رشتوں میں اشتراکات سوچے نہیں جاسکتے۔پس در حقیقت ماں کی محبت اس اشتراک کی بناء پر ہے۔مغربی جرمنی نے اگر مشرقی جرمنی کے باشندوں سے محبت اور پیار کا سلوک کیا ہے تو واضح بات ہے کہ ان کے درمیان اشتراکات ہیں اور جب ہم جنس ہم جنس کے ساتھ مل کر بیٹھیں تو ان کے جذبات اور تعلقات کی صورت اور ہوا کرتی ہے جب غیر جنس غیر جنس کے ساتھ مل کر بیٹھتا ہے تو اس کے تعلقات اور جذبات کی صورت اور ہوا کرتی ہے۔یہ ایسی بات نہیں ہے جس کا سوچ سے تعلق ہے ، یہ ایسی بات نہیں ہے جس کا انسانی اخلاق سے تعلق ہے، یہ فطرت کے گہرے تقاضے ہیں۔چنانچہ فارسی میں کہا جاتا ہے: کند هم جنس باہم جنس پرواز کہ تم دیکھو گے کہ ایک جنس کے پرندے اسی جنس کے پرندوں کے ساتھ پرواز کرتے ہیں۔کبھی آپ نے مرغابیوں کو کوؤں کے ساتھ پرواز کرتے نہیں دیکھا ہو گا۔کبھی آپ نے فاختاؤں کو مگھوں یا بازوں کے ساتھ پرواز کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہوگا۔یا تو وہ اکیلے اکیلے پرواز کرتے ہیں یا جب بھی اکٹھے پرواز کریں ہم جنس پرندے اپنی ہی جنس کے دوسرے پرندوں کے ساتھ مل کر یعنی دونوں ہم جنس باہم پرواز کرتے ہیں۔اب اس میں اخلاق کی تو کوئی بات نہیں۔اگر کوئی شارک کوؤں کے ساتھ مل کر پرواز کرنا چاہے اور کوے اس کو پرواز نہ کرنے دیں تو شارک کا یہ حق تو نہیں ہے کہ وہ شکوے کرے کہ دیکھو تم ہم سے برا سلوک کر رہے ہو یا غلط سلوک کر رہے ہو۔اگر وہ ساتھ مل کے پرواز کرنے دے تو ان کا احسان ہے۔پس جہاں تک قوموں کے طبعی فطری رجحانات کا تعلق ہے اس میں شکوے کی کوئی جانہیں ہے۔آپ اس قسم کی باتیں ہرگز نہ کریں کہ جرمن قوم نے جرمن قوم سے تو اتنا اچھا سلوک کیا اور ہمیں بعض دفعہ پندرہ پندرہ سال گزر جاتے ہیں اور پاسپورٹ کے لئے دھکے کھانے پڑتے ہیں لیکن پاسپورٹ نہیں ملتا۔یہ کوئی سوچی سمجھی تدبیر کے نتیجے میں نہیں ہے۔نہ تو اسے ہم Race کے فرق کے طور پر کہہ سکتے ہیں جیسا کہ میں نے مثال دی ہے کہ گہرے فطری تقاضے ہیں جن کا زندگی کی ہر نوع سے تعلق ہے۔لیکن جتنا ہم غور کریں وہاں یہ بات ضرور دکھائی دے گی کہ اشتراک ہونے چاہئیں اور