خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 598
خطبات طاہر جلد ۸ 598 خطبه جمعه ۱۸ ستمبر ۱۹۸۹ء یہاں آئیں کچھ عرصہ یہاں ٹھہریں اور جماعت کے متعلق مزید معلومات حاصل کریں۔اسی طرح روس میں بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے وسیع پیمانے پر رابطوں کے دروازے کھولے جا رہے ہیں۔ہمیں اللہ تعالیٰ نے پہلے سے ہی توفیق عطا فرما دی کہ ان قوموں کے لئے جو لٹریچر کا خلا تھا اسے پورا کرنا شروع کریں اور اس وقت ہم خدا کے فضل سے پہلے ہی اس مقام پر کھڑے ہیں کہ جب مطالبہ آئے ان کو کچھ نہ کچھ ضرور پہنچا دیں خصوصیت کے ساتھ قرآن کریم ان کی زبان میں کیونکہ اس سے بہتر اور کوئی لٹریچر مہیا ہو ہی نہیں سکتا۔اسلام تو ہے ہی لیکن دنیا بھر کے لڑ پچر میں قرآن سے بہتر کوئی کتاب نہیں اس لئے قرآن کریم میں تو ہم خدا کے فضل سے اس معاملے میں خود کفیل ہو چکے ہیں۔کثرت کے ساتھ شائع ہو رہا ہے اور سٹاک میں بھی موجود ہے لیکن اس کے علاوہ بھی لٹریچر تیار کیا گیا ہے جو متفرق امور سے متعلق ان سے تعارف کروائے گا۔تو اس ضمن میں میں آپ کو بتا رہا ہوں، متنبہ نہیں خوشخبری دے رہا ہوں کے باہر سے دروازے کھلنے شروع ہو گئے ہیں اور دیوار میں ٹوٹ رہی ہیں آپ اپنے دروازوں کو کیوں تنگ رکھیں گے۔اگر ان کھلتے ہوئے دروازوں کے مقابل پر آپ نے بھی اپنے دروازے کشادہ نہ کئے اور وسیع تر نہ کرتے چلے گئے تو پھر اسلام کے نہ پھیلنے کی ذمہ داری آپ پر ہو گی پھر آپ خدا کے سامنے ضرور جواب دہ ہوں گے اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے دوازے کھلنے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے Contact Points زیادہ ہوں یعنی بجائے اس کے کہ ایک مبلغ یا دس یا سو مبلغ یا سو دائین الی اللہ یا ہزار دا عین الی اللہ اسلام کے لئے کھلے رستے بن جائیں اور اسلام کے لئے لوگوں کو داخل ہونے کے لئے اپنے دلوں کے راستے پیش کریں لاکھوں کی ضرورت ہے اور ہر جگہ ان رابطوں کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔اس ضمن میں جیسا کہ میں نے پہلے بھی بارہا کہا ہے ہمیں ان قوموں کی طرف ان ملکوں سے باہر توجہ کرنی چاہئے۔ملکوں کے جو دروازے کھلیں گے اور کھل رہے ہیں اللہ کے فضل سے ان سے تو ہم جماعتی اور انتظامی سطح پر رابطے کریں گے اور جہاں تک توفیق ہوگی ان رابطوں کو موثر بنائیں گے۔لیکن جب میں کہتا ہوں ان قوموں کے دروازے کھل رہے ہیں تو مراد یہ ہے کہ ایسے دروازے بھی ہیں جو ان ملکوں سے باہر ہیں۔کروڑوں چینی ہیں جو چین سے باہر زندگی بسر کر رہے ہے اور لاکھوں