خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 599
خطبات طاہر جلد ۸ 599 خطبه جمعه ۱۸ ستمبر ۱۹۸۹ء روی ہوں گے یا مشرقی کمیونسٹ دنیا کے بسنے والے لوگ لکھو کھہا ایسے ہیں جو اپنے ملکوں سے باہر زندگی بسر کر رہے ہیں اس لئے جور جحانات وہاں پیدا ہور ہے ہیں اس سے بڑھ کر رجحانات ان ملکوں سے باہر پیدا ہونے کے عقلی امکانات ہیں۔پہلے تو جب آپ کسی چین سے تعلق رکھنے والے چینی سے بات کرتے تھے تو یہ خوف اس کو دامن گیر ہو جاتا تھا کہ اگر یہ سچائی بھی ہے اور میں اس کو قبول بھی کرلوں تو میرا ملک اسے برداشت نہیں کرے گا۔ایک روسی سے جب آپ بات کرتے تھے تو وہ خوفزدہ ہو جایا کرتا تھا۔مجھے یاد ہے کالج کے زمانے میں احمد یہ ہوٹل کے زمانے میں نہیں اس کے بعد کی بات ہے پارٹیشن کے معا بعد جب میں میو ہوٹل رہتا تھا ایک روسی وفد آیا ہوا تھا۔ہم کچھ طلبامل کر احمد یہ لٹریچر تقسیم کرنے کے لئے ان تک پہنچے اور روسی لٹریچر تو ہمارے پاس نہیں تھا مگر انگریزی اور بعض دوسرے لٹریچر کیونکہ وہ لوگ انگریزی جانتے تھے وہ ان کو دیا تو ہم سب نے محسوس کیا کہ وہ شخص خوفزدہ ہو گیا تھا اور اس کے ساتھ ایک اور شخص بھی اس کے نائب کے طور پر تھا ہوسکتا ہے کہ وہ انٹیلی جنس کا آدمی ہو کیونکہ ان دنوں میں خصوصیت سے جب روسی وفد باہر جایا کرتے تھے تو ان کے ساتھ انٹیلی جنس آفیسر ضرور جایا کرتے تھے اب نسبتا بہت فرق پڑ چکا ہے۔وہ اس کی طرف دیکھتا تھا اور اس کی آنکھوں میں خوف تھا اور اس نے معذرت کی کہ نہیں میں یہ قبول نہیں کر سکتا۔اس کے مقابل پر بہت سے دوسرے تھے جنہوں نے قبول کر لیا۔جہاں تک مجھے یاد ہے رشین نے یا قبول کیا ہی نہیں تھا یا سرسری سی دلچپسی ایک آدھ چیز لی ہوگی مجھے تو یہ یاد ہے کہ قبول نہیں کیا اب وہ قبول کرتے ہیں اب مطالبے کرتے ہیں اب جہاں جہاں رشین Ambassador سے ایمبیسی سے ہمارے دوستوں نے رابطے کئے ہیں انہوں نے گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے اور ایک Ambassador تو نہیں تھے مگر افریقہ کے دوران ایمبیسی کے ایک سینئر افسر تھے یا Deputy Ambassador تھے ان کو پہلے ہی پہنچ چکا تھا قرآن کریم۔ا انہوں نے مجھ سے بہت ہی تعریف کی یہ تو ایسا اعلیٰ درجہ کا ترجمہ ہے کہ اس سے دل پر گہرا اثر پڑتا ہے اور آپ کو اس کو روس میں پھیلانا چاہئے۔تو روسی ہوں یا چینی ہوں یا وہ ان ملکوں کے بسنے والے جہاں تک ہماری رسائی نہیں تھی اور ابھی تک پوری طرح نہیں ہے ان کے جگر گوشے جو باہر بس رہے ہیں ان تک تو آپ کی رسائی ہوسکتی