خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 597
خطبات طاہر جلد ۸ 597 خطبه جمعه ۱۸ ستمبر ۱۹۸۹ء تھا لیکن اس کا آغاز بھی ایک اچھے احمدی کے اعلیٰ کردار کے نتیجے میں ہوا۔ایک چینی افسر، ایک چینی سکالر باہر آئے ہوئے تھے ایک پروفیسر باہر آئے ہوئے تھے اس طرح رابطے ہوتے ہیں۔اس نے ایک ایسے احمدی کو دیکھا جس کو اس نے مختلف پایا اور وہ ایسا احمدی تھا جس کی شرافت گونگی نہیں تھی بلکہ بولنے والا تھا۔اس کے کردار میں دلچسپی لی اس نے زبانی اس کو بتانا شروع کیا کہ میں کیوں مختلف ہوں ، ہمارا کیا اخلاقی ضابطہ ہے جس کے نتیجے میں جس کی پیروی کے نتیجے میں تم میرے اندر ایک فرق دیکھ رہے ہو۔چنانچہ اسلام کا تعارف ، احمدیت کا تعارف اور اس کے نتیجے میں ایک خاص مثال بھی میرے سامنے ہے اس نے وسیع پیمانے پر چونکہ صاحب اثر آدمی تھا چین سے رابطے شروع کئے۔شروع میں ان رابطوں کا منفی نتیجہ نکلا اور اس کو بڑی سختی سے ہدا یتیں آئیں کہ خبردار اس فرقے کے قریب نہ جانا یہ تو بڑا خطرناک فرقہ ہے اور مرتد لوگ ہیں اور جو باتیں انہوں نے سنی ہوئیں تھیں وہ دہرانی شروع کیں۔میں نے بھی ان سے رابطہ اپنا قائم رکھا ان کو کہا کہ آپ یک طرفہ باتیں سن کر ٹھنڈے نہ ہوں دشمن یہ کیا کرتے ہیں ایسی باتیں۔خدا تعالیٰ نے ہدایت کے رستے میں شیطان بھی لگائے ہوئے ہیں وہ آوازیں دیتے چلے جاتے ہیں کہ نہیں یہ غلط رستہ ہے ادھر آؤ ، ادھر آؤ۔کان میں باتیں پھونکتے ہیں پس پردہ یا پیٹھ کے پیچھے باتیں کرتے ہیں اور اس کو کہتے ہیں دوسروں سے بات کرنے کی ضرورت ہی کوئی نہیں تم ہماری بات سنو اور سمجھ لو کہ یہ شیطانی لوگ ہیں ان کے قریب بھی نہیں جانا اس لئے آپ لٹریچر کا مطالعہ ضرور کر لیں۔ان کو موقع دیں ہمیں بھی موقع دیں۔چنانچہ بعض چیز میں ان کو بھجوائیں گئیں۔انہوں نے مطالعہ کیا اور ان کے دل کی کایا پلٹ گئی انہوں نے پھر دوبارہ رابطے کئے اور اب مجھے اطلاع ملی ہے کہ ان رابطوں کے نتیجے میں ان لوگوں نے بھی وہاں تحقیق کی اور ان کے بڑے بااثر رہنماؤں میں سے بعض نے ان کو لکھا ہے کہ ہم نے اب جو تحقیق کی ہے تو پتا چلا ہے کہ یہی جماعت ہے دراصل جو در حقیقت اسلام کی علمبردار ہے اور ہمیں اس تحقیق سے یہ بھی پتا چلا ہے کہ یہی جماعت ہے جو امن پرست ہے اور تلوار کے ذریعے نہیں بلکہ محبت کے ذریعے اور پیغام کے ذریعے دلوں کو فتح کرنے کا شعار رکھتی ہے۔یہ ان کا کردار ہے اس لئے ہمیں دلچسپی پیدا ہوگئی ہے اور بعض لوگ اب وہاں سے کوشش کر رہے ہیں کہ جس قدر جلد موقع ملے وہ