خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 565
خطبات طاہر جلد ۸ 565 خطبه جمعه ۲۵/اگست ۱۹۸۹ء بلکہ اس لئے ہوئے کہ دنیا کی چمک صداقت سے مرعوب ہو چکی ہے اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت نے یہ جلوے دکھائے ہیں کہ دور دور سے دنیا کے اکابرین کھچے ہوئے چلے آئے اور کس محبت اور جوش کے ساتھ انہوں نے جماعت احمدیہ کی تائید میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔یہ جو فرق ہے یہ ہمیشہ میرے سامنے رہا اور مجھے یقین ہے کہ آپ سب کے سامنے بھی رہا ہو گا لیکن یہ خدشہ ضرور ہے کہ بعض لوگ اس چمک سے مرعوب ہو کر اس چمک کی طرف ہی مائل نہ ہو جائیں اور ان کی نگاہیں اس شیشے پر نہ ٹھہر جائیں جس میں خدا تعالیٰ کی رحمتوں اور فضلوں کا انعکاس ہوا تھا۔شیشہ تو ایک ایسی چیز ہے جو اپنی ذات میں نہ کوئی رنگ رکھتی ہے نہ کوئی نقش رکھتی ہے بلکہ اگر کسی بدصورت آدمی کو اس میں دکھایا جائے تو وہ بدصورتی پیش کرے گا ، اگر کوئی حسن دکھایا جائے تو وہ حسن پیش کرے گا۔جولوگ جو یہاں آئے ان کو شیشوں کے طور پر دیکھنا چاہئے۔اپنی ذات میں ان شیشوں سے محبت نہیں ہونی چاہئے اگر چہ شیشے کی احسان مندی ایک الگ مسئلہ ہے جس نے بڑی خوبصورتی سے ایک جلوے کو آپ کے سامنے پیش کیا لیکن نظر جلوے پر جا کر ٹھہرنی چاہئے۔یہ شیشے دنیا کی چمک کو بھی دکھانے والے ہیں۔یہی شیشے مختلف ماحول میں مختلف قومی یا بین الاقومی مواقع پر کچھ اور مناظر بھی پیش کرتے ہیں جو ایک مومن کی نظر میں پسندیدہ نہیں ہو سکتے۔اس لئے محبت شیشوں سے نہ کریں بلکہ محبت اس جلوے سے کریں جوان شیشوں نے آپ کو دکھایا اور وہ اللہ کے نور کا جلوہ تھا خدا تعالیٰ کے وعدوں کے پورا ہونے کا جلوہ تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیغام کے دنیا میں پھیلنے کا جلوہ تھا اور اس کے بعد چونکہ ایک حد تک کچھ نہ کچھ ملونی، دنیا کی چمک بھی ہم نے دیکھ لی اس لئے استغفار کی طرف مائل ہونا بہت ضروری ہے اور یہی ہے جو میں آپ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں اور بڑی فکر سے اس کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔یہاں سے جب آپ لوٹیں گے اور خدا کے فضلوں کے منادی بنیں گے تو جماعتوں کو بھی بتائیں کہ حکومتوں کے تعلق سے ہمارے دل مرعوب نہیں ہیں۔حکومتوں کے تعلق سے ہمارے رستے نہیں بدل سکتے۔ہمارے رخ خدا کی طرف ہیں اور خدا ہی کی طرف رہنے چاہئیں اور کوئی اس سفر کے دوران ایسی منزل جہاں غیر آکر آپ کے مقام پر کچھ دیر ستائیں آپ کو اپنی طرف مائل کرنے والے نہ بنیں اور اپنے رستوں سے ہٹانے والے نہ بنیں۔