خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 566
خطبات طاہر جلد ۸ 566 خطبه جمعه ۲۵ /اگست ۱۹۸۹ء یہ مضمون ہے جس کو آپ کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے اور کثرت سے استغفار کرنی چاہئے اور اگر اس موقع پر آپ کے نعروں اور آپ کے جوش میں کوئی دنیا کی ملونی شامل ہو گئی تھی تو خصوصیت کے ساتھ استغفار کی ضرورت ہے۔تبھی میں نے حضرت مولوی محمد حسین صاحب کو وہاں پیش کر کے بتایا کہ کچھ وہ لوگ ہیں جو دنیا کی حکومتوں اور دنیا کی عظیم قوموں کے نمائندے کے طور پر آئے ہیں وہ ہمارے لئے بحیثیت مہمان بہت معزز ہیں لیکن ہماری اصل عزت اس بزرگ کی ذات میں ہے جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت پائی تھی اور جن کی برکتیں آپ حاصل کریں تا کہ آئندہ صدی میں ان برکتوں کو پھیلانے والے بن جائیں اور آئندہ صدی ان تابعین سے برکت پائے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ سے برکت پائی ہو۔اس ضمن میں مزید غور کرتے ہوئے بعض مشوروں کے دوران میری توجہ اس طرف مبذول ہوئی کہ جماعت کی ٹھوس تربیت کی طرف جتنی توجہ ہونی چاہئے وہ ابھی تک کما حقہ نہیں ہوئی۔اس ضمن میں جب میں نے مزید غور کیا تو اس رنگ میں اس بات کو پیش کیا ہی نہیں جا سکتا۔امر واقعہ یہ ہے کہ کبھی بھی دنیا میں تربیت کا حق ادا ہو ہی نہیں ہو سکتا۔یہ ایک لا متناہی سلسلہ ہے اس کا کوئی کنارہ نہیں ہے۔اس لئے ہر مقام پر جب ہم ترقی کی راہوں میں سفر کرتے ہوئے پہنچیں گے تو یہ بات ہمیشہ پیش نظر رکھنی چاہئے آئندہ بھی ہمیشہ پیش نظر رہنی چاہئے کہ کوئی مقام بھی ہماری آخری منزل نہیں ہے اور گزشتہ سفر کے نتیجے میں جو سبق ہم نے سیکھے ہیں ان سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے ماضی سے روشنی لیتے ہوئے مستقبل کے لئے ہمیں روشنی تلاش کرنی چاہیئے اور مستقبل کے لئے زیادہ بہتر لائحہ عمل طے کرنا چاہئے۔اس لئے جب میں نے کہا کہ ہم تربیت کی طرف کما حقہ توجہ نہیں کر سکے تو میری مراد یہ نہیں تھی کہ نعوذ باللہ جماعت تربیت سے غافل رہی ہے۔میری مراد یہ ہے کہ جب جس منزل پر بھی میں دیکھتا ہوں مجھے بہت سے خلا دکھائی دیتے ہیں۔اپنی ذات میں بھی اور اپنے ماحول میں بھی اور میرا یقین اور زیادہ بڑھ جاتا ہے کہ خدا کے سوا کوئی کامل نہیں ہے اور خدا کی طرف حرکت کرنا ہی کمال ہے اس لئے جماعت کو خدا کی طرف متحرک رکھنے کے لئے اور ہمیشہ جماعت کا قدم آگے بڑھانے کے لئے موثر پروگرام اور نہایت عمدہ پر حکمت منصوبے بناتے رہنا چاہئے اور اس ضمن میں ہر درجے کوملحوظ