خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 564 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 564

خطبات طاہر جلد ۸ 564 خطبه جمعه ۲۵/اگست ۱۹۸۹ء کے ماحول میں ان معاملات کو طے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔جلسے کے تاثرات سے متعلق ایک اہم بات میں آپ کے سامنے رکھنی چاہتا ہوں اس میں جانے والے مہمان بھی خصوصیت سے پیش نظر ہیں مگر یہاں کے مقامی انگلستان کے احمدی بھی اس نصیحت کی ذیل میں آتے ہیں۔آپ نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ جلسہ ہر لحاظ سے کامیاب ہوا اور اس میں بعض نئی خدا کی شان کے جلوے ہم نے دیکھے جن کی وجہ سے دل حمد سے بھرے ہوئے ہیں اور تمام جلسے پر بے اختیار لوگ خدا تعالیٰ کی حمد سے مغلوب ہو کر جب ان کے دل چھلکتے تھے تو نعرہ ہائے تکبیر بلند کرتے تھے اور مختلف قسم کے نعرہ تکبیر زندہ باد اور کئی قسم کے ایسے نعرے آپ نے سنے جو عام جلسوں میں بھی سنے جاتے ہیں مگر اس جوش اور اس کثرت کے ساتھ اور اس شدت کے ساتھ پہلے نہیں سنے گئے۔یہاں تک کہ چھوٹے چھوٹے بچے بھی جو مجھے مستورات نے بتایا ہے ہماری خاندان کی بعض بچیوں نے کہ چھوٹے چھوٹے بچے بھی بے اختیار کھڑے ہو کر ہاتھ اپنا بلند کر کے نعرے لگاتے تھے اور جو باہر سے آنے والے مہمان تھے وہ حیرت کے ساتھ دیکھتے تھے کہ کس قسم کے لوگ ہیں کیسا جذبہ ہے۔اس دوران مجھے کچھ فکر بھی پیدا ہوئی اور اسی فکر کا میں اب ذکر کرنا چاہتا ہوں۔آپ کو یاد ہوگا میں نے جلسے میں بتایا تھا کہ جب مجھے اندازہ ہوا کہ کس قسم کے مہمان آرہے ہیں اور کس قسم کا ایک نیا ماحول پیدا ہو گا تو مجھے سخت فکر پیدا ہوئی کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کوئی صحابی یہاں نہیں ہے۔چنانچہ فوری طور پر پیغام پہنچایا گیا کہ اگر چہ حضرت مولوی محمد حسین صاحب علالت کے باعث انکار کر چکے تھے لیکن ایک دفعہ میری طرف سے ان کو پیغام دیا جائے اور کوشش کی جائے کہ وہ ضرور پہنچیں۔چنانچہ اللہ کے فضل سے ان کی مشکلات بھی ساری آسان ہو گئیں۔سفر خدا نے اپنے فضل سے اچھا گزار دیا اور وہ ہم میں موجود تھے۔میری پریشانی اس بات کی تھی کہ اگر چہ یہ جودنیا کی چمک ہمیں یہاں دکھائی دی ہے یہ ذاتی طور پر ہماری مقصود نہیں تھی اور دنیا کی چمک کی وجہ سے ہم مرعوب نہیں ہورہے تھے بلکہ اس وجہ سے اللہ کی حمد کے ترانے گا رہے تھے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دئے گئے وعدے پورے ہور ہے تھے اور بڑی بڑی حکومتیں بھی اور بڑے بڑے صاحب ثروت لوگ جماعت کی طرف مائل ہوتے نظر آرہے تھے اور اس وجہ سے جو حد کے جوش میں نعرہ ہائے تکبیر بلند ہوئے وہ در حقیقت دنیا کی چمک سے مرعوب ہو کر نہیں