خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 562 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 562

خطبات طاہر جلد ۸ 562 خطبه جمعه ۲۵/اگست ۱۹۸۹ء سے وہ مہمان بھی تھے اور میزبان بھی۔ایسے مواقع پر بعض اوقات کچھ تلخیاں بھی پیدا ہو جایا کرتی ہیں۔جہاں تک میں نے جائزہ لیا ہے ایسے مواقع کم آئے اور شاذ کے طور پر آئے لیکن بعض دفعہ منتظمین ایک لمبے عرصے سے کام کے نتیجے میں اعصابی الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں اور تھک جاتے ہیں اور ایسے وقت میں کوئی مہمان کوئی ان سے مطالبہ کرے یا کوئی بات پیش کرے تو بعض دفعہ وہ اپنے تحمل کی حدیں پھلانگ کر ایسی بات کر جاتے ہیں جو مہمانوں کے لئے تکلیف دہ ہوتی ہے۔ایسے موقع پر بعض دفعہ چھوٹی سی بات اتنی کڑوی ہو جاتی ہے کہ مہمان جن کے دل ہمیشہ نازک ہوتے ہیں وہ اس کڑواہٹ کو برداشت نہیں کر سکتے اور خاص طور پر اس جلسے میں چونکہ بہت دور دراز کے سفر کر کے غیر معمولی کلفت اٹھا کر بہت مشقت اور محنت کے ساتھ اپنی جمع شدہ پونجیاں خرچ کر کے دوست یہاں پہنچے اس لئے خاص طور پر یہ دلداری کے محتاج تھے اور محتاج ہیں۔پس اگر جماعت احمدیہ انگلستان کے کسی کارکن کی طرف سے کوئی ایسی کڑوی بات ہوئی جس نے تلخی پیدا کی تو میں ان کی طرف سے آپ سے معافی چاہتا ہوں کیونکہ مہمانوں کے جذبات بہت ہی قابل قدر ہوا کرتے ہیں، ان کے دل بہت نازک ہوا کرتے ہیں اور اللہ کی راہ میں آنے والے مہمان تو واقعہ سر آنکھوں پر بٹھانے کے لائق ہیں اس لئے ان کی طرف سے اگر کچھ کبھی زیادتی بھی ہو جائے یا ایسا بوجھ ڈالیں جو دستور کے مطابق نہیں ڈالا جاتا تب بھی حوصلہ اور صبر اور حلم کے ساتھ ایسی چیزوں کو برداشت کرنا چاہئے اور اُف نہیں کہنا چاہئے۔حضرت اقدس محمد مصطفی امی ﷺ کے ارشادات سے ثابت ہے کہ بعض دفعہ بہت ہی نیک اور برگزیدہ لوگوں سے بھی جن کی نیکی اور برگزیدگی میں کوئی شک نہیں ہوتا۔جن کے اخلاص میں کوئی شک نہیں ہوتا۔جن کی لہی خدمت میں کوئی شک نہیں ہوتا۔ایک ایسی بات نکل جاتی ہے جو اپنی تلخی اور کڑواہٹ میں آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے مطابق سمندر میں بھی ڈالی جائے تو اس کو کڑوا کر دیتی ہے۔ایسے موقعے جیسے کہ جلسہ سالانہ کے موقعے ہیں۔ایسے موقع پر اس قسم کی بات بعض دفعہ غیر معمولی طور پر ساری مہمان نوازی میں کڑ اوہٹ پیدا کر دیتی ہے اس لئے کسی کو متہم کرنے کی بجائے کسی ایک کی بات کرنے کی بجائے میں نے مناسب سمجھا کہ آنے والے مہمانوں سے اس بات کی معافی چاہوں اور اگر کسی کارکن سے کوئی ایسی بات ہوئی ہے تو وہ مجھ سے معافی مانگنے کی بجائے خدا تعالیٰ کی طرف