خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 563 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 563

خطبات طاہر جلد ۸ 563 خطبه جمعه ۲۵ اگست ۱۹۸۹ء رجوع کرے اور استغفار کرے اور اللہ تعالیٰ سے اپنی کوتاہی اور غفلت کی معافی چاہے۔کچھ مہمان تو ابھی جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے جانے والے ہیں عنقریب اور غالباً اکثریت اس جمعہ اور اگلے جمعہ کے درمیان رخصت ہو چکی ہو گی لیکن کچھ مہمان شاید ابھی یہاں ٹھہریں۔کچھ ایسے مہمان ہیں جن کو حکومت نے لمبا عرصہ ٹھہرنے کی اجازت دی ہے اور ان کے عزیز اور اقرباء خود نہیں چاہتے کہ وہ جلدی رخصت ہوں۔ایسے مہمانوں کا تعلق انفرادی طور پر بعض خاندانوں سے ہے اور اپنے وعدوں کی پابندی کی حدود میں رہتے ہوئے اگر قانون شکنی کے بغیر وہ ٹھہر نا چاہیں تو کسی کو ایسے ٹھہر نے والوں پر اعتراض کا حق نہیں۔کچھ ایسے ہیں جو بعض مجبوریوں کے پیش نظر قانون کی حدود میں رہتے ہوئے جماعت کی اجازت سے یہاں کچھ عرصے کے لئے ٹھہر رہے ہیں۔ان کے بھی اگر اپنے کچھ ٹھکانے ہوں۔اپنے عزیزوں اور دوستوں کی طرف وہ ٹھہر سکتے ہوں تو میں ان دوستوں اور عزیزوں سے خود درخواست کرتا ہوں کہ چونکہ یہ غیر معمولی حالات میں آئے ہوئے اللہ کے مہمان ہیں اس لئے ان کے ساتھ غیر معمولی مہمان نوازی کا سلوک کیا جائے اور جو بھی تکلیف اس راہ میں پہنچے اسے اللہ کی خاطر برداشت کرنے کی کوشش کریں اور وسیع حوصلہ دکھا ئیں۔انصار نے تو اپنی آدھی آدھی جائدادیں مہاجرین کی خدمت میں پیش کر دی تھیں اور مستقلاً اپنے گھر پیش کر دئے تھے۔ان آنے والوں کے مطالبے تو کوئی نہیں میری طرف سے یہ مطالبہ ہے کہ جن کو بعض جماعتی ضروتوں کے پیش نظر یا بعض ایسے حالات کی بناء پر کچھ عرصہ یہاں ٹھہر نا پڑے جو قانونی حدود کے اندر ہو اور جماعت کی اجازت سے ہو تو ان کے لئے جہاں تک مقامی انگلستان کے احمدیوں کا تعلق ہے وہ لہی خدمت کے جذبے سے مہمان نوازی کے لئے اپنے آپ کو پیش کریں اور چند ماہ کی بات ہے اس کے بعد انشاء اللہ یہ لوگ بھی جیسا کہ باقی سب مہمان رخصت ہو گئے ہیں جہاں بھی خدا نے ان کے لئے مقدر بنایا وہاں رخصت ہوں گے۔نظام جماعت کی طرف سے بھی اگر ان کا کچھ انتظام ہوسکتا ہے تو اس سلسلہ میں میں نے ایک کمیٹی مقرر کی ہے جو حالات کا جائزہ لے کر مشورہ دے گی کہ جماعت کس حد تک مزید ان کی دیکھ بھال کر سکتی ہے۔بہر حال جو مہمان تشریف لائے ہیں ان کو بھی اس صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہی کوشش کرنی چاہئے کہ کم سے کم بوجھ بنیں۔اللہ تعالیٰ نہایت ہی عمدگی کے ساتھ بہت پاکیزہ محبت