خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 559 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 559

خطبات طاہر جلد ۸ 559 خطبه جمعه ۱۸ راگست ۱۹۸۹ء یعنی صرف دخ تک پہنچا ہے اس سے آگے نہیں بڑھ سکا۔(مسلم کتاب الفتن حدیث نمبر : ۷۳۴۵) اب مجھے پورے الفاظ تو یاد نہیں لیکن غالباً اس قسم کا حضور کا تبصرہ تھا کہ مجھے تمہاری پہنچ کا پتا چل گیا ہے بس دخ تک ہی ہو تم۔تو اللہ تعالیٰ بعض دفعہ ایسے لوگوں کو بھی دوسروں پر اثر انداز ہونے کے لئے سچی باتیں بتا دیتا ہے۔نائجیریا کے سب سے بڑے مسلمان چیف پہلے جن چیف سے میں ملا تھا بہت ہی معزز اور وہاں کے بادشاہ کہلاتے ہیں۔مجھے اب معلوم ہوا ہے کہ ان سے بھی اوپر کا مقام ہے ان کا بہت ہی معزز ہیں اور صدر مملکت ان کا بڑا حترام کرتے ہیں۔ان سے کچھ احمدی ملے جشن تشکر کے سلسلے میں دعوت دینے کے لئے گئے اور ضمناً ذکر کیا کہ دیکھیں وہ دوسرے چیف اتنے بڑے چیف ہیں لیکن بہر حال آپ کے جیسے تو نہیں۔وہ جب ہمارے امام آئے تو ان سے ملنے آئے ، ان کو دعوت دی اور بہت بڑا اعزاز کیا اور دعائیں لیں تو آپ کیوں خاموش بیٹھے رہے ہیں۔اس نے کہا بات یہ ہے کہ مجھ سے ایک دھوکا ہو گیا۔کہتے ہیں کہ مجھے خود پریزیڈنٹ کی طرف سے یہ پیغام ملا تھا کہ اس طرح ہمارے ایک معزز مہمان آرہے ہیں میں چاہتا ہوں کہ آپ بھی ان کے استقبال کرنے والوں میں شامل ہوں اور چونکہ وہ مسلمان را ہنما ہیں وہ پریذیڈنٹ بڑے صاحب حکمت ہیں۔وہ یہ چاہتے تھے کہ دوسرے مسلمانوں پر یہ اثر ہو کہ اتنا بڑا مسلمان را ہنما بھی جو عزت افزائی کر رہا ہے تو پھر ان سے ملنے جلنے اور تعلق بڑھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔غالبا ان کے پیش نظر یہ حکمت ہوگی لیکن وہاں کے ایک منجم نے یہ اخبار میں خبر شائع کر دی کہ تیرہ فروری کو جس دن میں نے وہاں پہنچنا تھا اس دن ایک بہت بڑا واقعہ ہونے والا ہے اور خود پریذیڈنٹ صاحب گھبرا گئے کہ کہیں کوئی فساد نہ ہو جائے چنانچہ انہوں نے ان کو فون کیا کہ دیکھیں میں نے آپ سے خود کہا تھا لیکن آپ چپ کر کے بیٹھے رہے کیونکہ تیرہ فروری کو کوئی بہت بڑا واقعہ ہونے والا ہے۔ان کو یہ نہیں پتا تھا کہ اس دن میں نے آنا تھا اسی لئے اللہ تعالیٰ نے وہ دن بھی دکھا دیا ان کو۔تو بہر حال وہ واقعہ ہو کے گزر بھی گیا لیکن بعد میں یہ خدا تعالیٰ نے اس روایت کو محفوظ کرانے کے لئے ہم تک اس بات کو پہنچا بھی دیا۔تو ہر دفعہ ہر طرف سے یہ اطلاع مل رہی ہے کہ جو کچھ ہوا ہے اس میں خدا کی تقدیر کا ہاتھ تھا اور ہماری ہوشیاریوں اور چالا کیوں کا کوئی دخل نہیں ہے۔ہماری کوششوں اور منصوبوں کا دخل نہیں ہے