خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 558
خطبات طاہر جلد ۸ 558 خطبه جمعه ۱۸ را گست ۱۹۸۹ء تھی۔اس نے بعد میں خود ذکر کیا کہ جب مجھے پتا لگا کہ جماعت احمدیہ کے امام آرہے ہیں تو اس وقت مجھے خیال آیا کہ یہ اسی واقعہ کی طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے اشارہ معلوم ہوتا ہے۔اسی طرح جس جس ملک میں میں گیا ہوں وہاں خدا کے فضل سے کوئی نہ کوئی آسمانی نشان ایسا ظاہر ہوا جس سے غیروں کو اطلاع ملی ہے۔یعنی اپنوں کو تو بعض دفعہ محبت کے نتیجے بھی اچھی خواہیں آجاتی ہیں اور جب تک خدا کی طرف سے خاص علامتیں ظاہر نہ ہوں ہم نہیں کہہ سکتے کہ یہ تمناؤں کی خواب ہے یا خدا کی طرف سے غیر معمولی نشان ہے لیکن جب کثرت سے غیر ایک ہی طرح کے خوابیں دیکھ رہے ہوں تو اس کو تصور یا تمنا کی خواب قرار دینا جہالت ہوگی۔میں نے آپ کے سامنے ذکر کیا ہے کہ جب میں وہاں گیا گوئٹے مالا تو وہاں ایک منجم نے جو بہت بڑے صحافی بھی ہیں انہوں نے جب زائچہ نکالا تو انہوں نے دیکھا کہ جس تاریخ کو میں پہنچ رہا ہوں وہ گوئٹے مالا کی تاریخ کا سب سے معزز دن ہے اور اسی وجہ سے ان کو دلچسپی پیدا ہوئی ، اسی وجہ سے انہوں نے اخبارات میں جماعت کے متعلق مضامین لکھے اور سارے ملک میں اچانک جماعت احمدیہ کا تعارف ہو گیا جبکہ ہمارا اس وقت ایک بھی مسلمان وہاں موجود نہیں تھا۔تو خدا کے کام ہیں جو کرتا ہے۔اب مجھے ایک دلچسپ بات نائجیریا کے متعلق معلوم ہوئی جو پہلے نہیں تھی یہ سنا کر پھر میں اس خطبے کو ختم کروں گا۔اس کا بھی اسی قسم کے ایک منجم کی پیشگوئی سے تعلق ہے۔آپ یہ جانتے ہیں منجم تو ٹامک ٹوئیاں مارتے رہتے ہیں لیکن بعض دفعہ خدا تعالیٰ ان کے زیر اثر لوگوں کو ہدایت دینے کی خاطر ان کے منہ سے بھی کچی باتیں نکلوا دیتا ہے۔جس طرح ایک دفعہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے زمانے میں ایک ایسے ہی انکل سے باتیں کرنے والا اس باغ کے قریب پہنچا جہاں حضور اکرم آرام فرما رہے تھے اور وہ باڑ میں سے آپ کو دیکھ رہا تھا۔تو حضور اکرم ﷺ نے سنا ہوا تھا کہ یہ انکل پچھ سے بڑی بڑی باتیں کرتا ہے دیکھوں یہ کیا چیز ہے کہیں دجال تو نہیں۔اس پر آپ نے سورہ دخان کا مضمون ذہن میں باندھا اور اس میں بڑی حکمت یہ تھی کہ اگر دجال ہوا تو چونکہ دخان کا مضمون دجال سے تعلق رکھتا ہے اور یہ بھاگ جائے گا اور اگر ویسے ہی ہوا کوئی اٹکل والا تو اندازہ ہوگا کہ اس کو کچھ پتا بھی لگتا ہے کہ نہیں۔تو اس شخص میں کچھ خدا نے روشنی ضرور رکھی تھی۔چنانچہ جب حضور اکرم ﷺ نے سورہ دخان کا مضمون باندھا ہے ذہن میں اور یہ کہنے لگ گیا دخ دخ دخ۔۔