خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 546
خطبات طاہر جلد ۸ 546 خطبه جمعه ۱۸ را گست ۱۹۸۹ء ہے لیکن یہ جلسہ تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ مینار پر مینار قائم کر دیا گیا ہو نئی بلندیاں عطا ہوئی ہیں اس کو اور ہر شخص نے یہ بیان کیا کہ ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس قسم کی چیز بھی کوئی دنیا میں ہوسکتی ہے۔پس یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے اور اس کی غیر معمولی شان ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ جو کچھ۔چند دنوں میں آپ نے دیکھا یہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہے بلکہ جیسا کہ میں نے اپنی مختصر تقریر میں یعنی جسے میں مختصر سمجھ رہا تھا لیکن لوگ لمبی سمجھ رہے تھے آنے والے۔اس تقریر میں میں نے بیان کیا اور بہت سی باتیں نہیں بیان کیں۔اس سے آپ نے اندازہ لگایا ہوگا کہ تمام دنیا میں کوئی الہی نقد ریتھی جو کام کر رہی تھی۔دلوں پر تصرف کر رہی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تائید میں عظیم الشان نشانات ظاہر ہورہے تھے اور ایک ایسی عجیب کیفیت میں یہ سفر مکمل ہوا ہے کہ ساری زندگی میں کبھی اس قسم کا عجیب تجربہ نہیں ہوا اور جس طرح یہاں سے لوٹنے والے ایک نشے کی کیفیت میں لوٹ رہے ہیں میں اس سفر سے اسی قسم کی ایک نشے کی کیفیت میں یہاں لوٹا تھا۔میں یہ سمجھتا ہوں جس طرح بعض دوسرے دوستوں نے بھی متوجہ کیا یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کا نشان اس مباہلے کے چیلنج سے بھی تعلق رکھتا ہے جو گزشتہ سال کے وسط میں میں نے دیا تھا اور یہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں تھا۔یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک غیر معمولی ایک عظیم الشان تصرف تھا جس کے نتیجے میں وہ مباہلے کا چیلنج دیا گیا اور اس کے ساتھ پھر خدا تعالیٰ نے ہمارے صدی کے آخری سال کے کچھ حصے اور نئے سال کے کچھ حصے کو اکٹھا کر دیا اور اس مباہلے کے چیلنج کے بعد خدا تعالیٰ نے اس کثرت سے جماعت کے ساتھ رحمت اور فضلوں کا سلوک کیا ہے،اس کثرت سے اعجازی نشان دکھائے ہیں کہ جیسا کہ میں نے اس مباہلے میں دعا کی تھی کہ اے خدا جو سچا ہے اس پر اپنے فضلوں کی بارشیں نازل فرما۔ان کے حالات اچھے کر دے ان کے دلوں میں دین کی محبت بڑھا دے ان کو عبادت گزار بنا اور ان کو ایسی ترقی دے کہ دنیا حیران رہ جائے اور کسی انسانی کوشش کا دخل اس میں نہ ہو۔پس اس جلسے پر جو کچھ آپ نے دیکھا ہے یہ کچھ ان دعاؤں کا پھل بھی ہے لیکن اسے اور یقینی بنانے کے لئے خدا تعالیٰ نے ان مد مقابل لوگوں کے جلسے کو اس بری طرح ناکام اور ذلیل کر دیا ہے کہ یہ ان کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا۔جو جلسہ انہوں نے ہمارے مقابل پر بڑی شان وشوکت