خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 545
خطبات طاہر جلد ۸ 545 خطبه جمعه ۱۸ را گست ۱۹۸۹ء دراصل آنے سے پہلے خود اس بات کا اظہار کیا تھا اور یہاں آنے کے بعد بھی منتظمین سے کہا کہ میرا ارادہ ہے کہ ہم جلسے سے فارغ ہو کر کچھ دن یہاں ٹھہریں اور Lake District اور دوسری جگہیں جو مشہور ہیں ان کی سیر کر کے واپس جائیں۔تو میں نے اسی خیال سے کہ شاید ان کا انتظام نہ ہو اس وجہ سے واپس جا رہے ہوں ان سے پوچھا کہ آپ کی تو خواہش تھی جب آئے ہوئے ہیں تو دیکھ لیں۔تو کچھ دیر وہ سوچتے رہے کہ کیا جواب دوں۔پھر انہوں نے کہا کہ بات یہ ہے کہ میں نے جولذت یہاں پائی ہے اور جو کچھ دیکھا اس سے دل پہ جو کیفیت طاری ہے اس سے ایک نشے کا عالم ہے اور جس طرح ایک بہت اچھا کھانا کھانے کے بعد انسان پسند نہیں کرتا کہ اس کے مزے میں غیر مزے کی ملاوٹ ہو جائے اسی طرح اب میری یہ خواہش ہے کہ اس نشے اور اس مزے میں کوئی اور ملاوٹ نہ ہو اور میں جلد واپس جا کر اپنی قوم کو اور اپنے خاندان کو اور اپنے عزیزوں کو بتاؤں کہ یہ روحانی لذت کیا چیز ہے۔جب ان کا یہ جواب سنا تو ان کی بیگم صاحبہ نے قہقہہ لگایا اور وہ قہقہہ بہت خوشی کا قہقہہ تھا یعنی بے اختیار ان کے دل سے پھوٹا۔میں نے تعجب سے ان کی طرف دیکھا میں نے کہا کیا بات ہے انہوں نے کہا میں سوچ رہی تھی کہ اب میرا خاوند پھنس گیا ہے۔دیکھیں کیا جواب دیتا ہے لیکن اس نے وہی جواب دیا جو میرے دل کا جواب تھا اور اس بات پر بے اختیار مجھے خوشی سے ہنسی آگئی کہ کتنے مزے کی بات ہے میرے خاوند نے وہی بات کہی جو میرے دل کی بھی کیفیت ہے۔اب یہ تو احمدی لوگ نہیں۔یہ تو مسلمان بھی نہیں لیکن حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو عشق جماعت کو عطا فرمایا ہے وہ ماحول میں سرایت کر رہا تھا اس کے لئے الفاظ کی ضرورت نہیں تھی۔ہر آنے والا یہ محسوس کر رہا تھا کہ یہ قوم اور قوم ہے، ان کی کیفیات اور کیفیات ہیں اور خود بخودان جذبوں سے متاثر ہو رہا تھا۔پس حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کے نشان کے طور پر یہ ایک جلسہ بھی ہے جسے ہم دنیا کے سامنے پیش کر سکتے ہیں۔اور اگر چہ ہر جلسے میں اسی قسم کی کیفیات کا انسان مشاہدہ کرتا ہے مگر سب آنے والوں نے جنہوں نے مجھ سے ملاقات کی ہے یا جن سے اور لوگوں نے باتیں کی ہیں ان سے مجھے یہ معلوم ہوا کہ ہر شخص کی یہی کیفیت ہے کہ جلسے ہمیشہ ہی غیر معمولی اثر کرنے والے ہوتے ہیں اور جماعت کا مرکزی جلسہ انسان کو نئے ولوں اور نئے جذبوں کے ساتھ واپس بھیجتا